پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مراعات سے متعلق بل کی منظوری پر شفافیت کے دعوؤں پر سوال اٹھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بتایا جائے کہ یہ بل کس طریقہ کار کے تحت منظور کیا گیا۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے اپنے لیے تو مراعات حاصل کرلیں، تاہم عوام کو اب تک کوئی نمایاں ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق موجودہ حالات میں صوبے کو حکمرانوں کی مراعات نہیں بلکہ مؤثر طرز حکمرانی، امن و امان کے قیام اور عوامی خدمت کی ضرورت ہے۔
گورنر نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بھی ناکام دکھائی دیتی ہے، جبکہ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی شعبے بھی بدحالی کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ عوام کے ٹیکس کا حساب مانگتے تھے، آج وہ خود مراعات حاصل کر رہے ہیں، جو ان کے دعوؤں کے برعکس ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں 25 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں، محسن نقوی
فیصل کریم کنڈی نے آزادیٔ اظہار پر قدغن لگانے کی کوششوں کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق معاملات چلائے جانے چاہییں۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے مطابق ہر منظور شدہ قانون گورنر کو بھیجا جاتا ہے اور وہ متعدد صوبائی بلوں پر آئینی اعتراضات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی میں آئینی تقاضوں اور شفافیت کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے زور دیا کہ صوبائی حکومت اپنی ترجیحات عوامی مسائل کے حل، بہتر طرز حکمرانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر مرکوز کرے تاکہ شہریوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔





