بینک آف خیبر میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ، ایمل ولی خان نے بڑا مطالبہ کر دیا

بینک آف خیبر میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ، ایمل ولی خان نے بڑا مطالبہ کر دیا

اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی نے بینک آف خیبر میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، اقربا پروری اور انتظامی معاملات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے

اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ بینک آف خیبر میں سامنے آنے والے مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات تشویشناک ہیں، اس لیے حقائق سامنے لانے کے لیے آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ بینک آف خیبر صوبے کا اہم مالیاتی ادارہ ہے اور اس سے متعلق کسی بھی معاملے کا اثر ادارے کی ساکھ اور عوامی اعتماد پر پڑتا ہے۔ انہوں نے بینک کے مالی، انتظامی اور قانونی معاملات کے مکمل جائزے اور انٹرنل آڈٹ رپورٹس کو سامنے لانے کا بھی مطالبہ کیا۔

ایمل ولی خان نے بینک کے انتظامی ڈھانچے، بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صوبے کی نمائندگی اور منیجنگ ڈائریکٹر کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ ان معاملات پر وضاحت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل اور اداروں کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ عوامی مفاد سے متعلق کسی بھی معاملے پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اداروں میں شفافیت، میرٹ اور احتساب کو یقینی بنایا جائے۔

Scroll to Top