خیبر پختونخوا میں اسلحہ و منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ؛ 6 ماہ میں 30 ہزار سے زائد مقدمات درج

خیبر پختونخوا میں اسلحہ و منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ؛ 6 ماہ میں 30 ہزار سے زائد مقدمات درج

کاشف الدین سید
 خیبر پختونخوا میں ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سپلائی میں اضافہ ہو گیا ہے اور رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران 30 ہزار سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

افغانستان اور مختلف اطراف سے قبائلی اضلاع سے منسلک ہونے کی وجہ سے پشاور غیر قانونی اسلحہ و منشیات کے کاروبار کے حوالے سے حساس ترین اضلاع میں شامل ہے۔

واضح رہے کہ قوانین سخت کرنے کے باوجود پشاور سمیت صوبے میں اسلحہ و منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سپلائی کا سلسلہ جاری ہے۔ تفتیشی عملے کی کمی، بعض کیسز میں پولیس کی کمزور تفتیش اور ملزمان کی سزا کی شرح کم ہونے جیسے عوامل کی وجہ سے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث ملزمان عدالتوں سے بری یا ضمانتوں پر رہا ہو جاتے ہیں۔ اس ضمن میں پولیس حکام کو تفصیلی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 6 ماہ کے دوران غیر قانونی ہتھیاروں و اسلحہ کی اسمگلنگ، سپلائی وغیرہ پر ملزمان کے خلاف 21,903 کیسز درج کیے گئے جبکہ پولیس کارروائیوں کے دوران 21,355 ملزم گرفتار ہوئے۔ ملزمان کے قبضے سے 1,457 رائفلز، 2,994 شاٹ گن، 25,805 پستول، 1,821 کلاشنکوف، 236 کالاکوف، 93 ہینڈ گرنیڈز، 8 اسٹین گن، 5,117 ڈیٹونیٹرز، 1,215 ڈائنامائٹس اور ایل ایم جی برآمد کی گئیں۔

آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران 9,158 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی اور ملزمان کے خلاف منشیات کے مختلف قوانین کے تحت 10,197 ایف آئی آرز کاٹی گئیں۔ منشیات فروشی پر 10,718 ملزمان کو گرفتار کر کے 7,577 کلوگرام چرس، 385 کلو افیون، 246 کلو ہیروئن اور 949 کلو آئس برآمد ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر: لنڈی کوتل میں زمین کے تنازع پر دو فریقین میں تصادم، 2 افراد جاں بحق، 5 زخمی

قانونی ماہرین کے مطابق اسلحہ و منشیات کے دھندے میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں مقرر کرنے اور پولیس تفتیش مزید مؤثر بنانے سے سزا کی شرح بڑھے گی اور اس غیر قانونی دھندے پر قابو پایا جا سکے گا۔

Scroll to Top