بلوچستان کے ضلع زیارت کےمنگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاک فوج، فرنٹئیر کونسٹیبلری (ایف سی) اور بلوچستان پولیس کی جانب سے شروع کیا گیا مشترکہ “آپریشن شعبان” کامیابی سے جاری ہے جس کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 13 خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق منگی ڈیم حملے کے تسلسل میں دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں خوارج کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے اور زمینی و فضائی کارروائیوں کے ذریعے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس آپریشن کے آغاز میں 6 اور 7 جولائی کو سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے 26 دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھاجبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زمینی اور ہوائی ایکشنز میں مزید 13 خارجی دہشت گرد مارے گئےجس سے صرف آپریشن شعبان میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 39 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب آج صبح خضدار کے علاقے زیدی میں دہشت گردوں کی طرف سے پولیس اسٹیشن پر کیا گیا ایک اور بڑا حملہ سیکیورٹی فورسز نے کامیابی سے پسپا کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج اور ایف سی کے دستوں نے حملے کی اطلاع ملتے ہی برق رفتار کارروائی عمل میں لائی، جس کے نتیجے میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ اسی علاقے میں ہیلی کاپٹر آپریشن کے دوران مزید 5 سے 6 دہشت گردوں کے مارے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : زیارت : منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 پر دہشت گردوں کا حملہ، 23 دہشت گرد ہلاک
سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ 5 جولائی سے جاری “آپریشن شعبان” اور صوبے کے دیگر حصوں میں کیے جانے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران اب تک مجموعی طور پر فتنہ الخوارج کے 75 دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے اور علاقے میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔





