زیارت : منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 پر دہشت گردوں کا حملہ، 23 دہشت گرد ہلاک

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں واقع منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

حکام کے مطابق یہ حملہ انتہائی افسوسناک تھا، تاہم بلوچستان پولیس نے غیر معمولی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق 6 جولائی کی صبح پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 پر ایک ڈی ایس پی کی سربراہی میں تقریباً 35 پولیس اہلکار تعینات تھے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے کامیاب مذاکرات، زیارت کراس دھرنا ختم، شاہراہ بحال

ممکنہ دہشت گرد حملے کے پیش نظر خفیہ اداروں کی جانب سے پہلے ہی تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد چوکی پر نفری میں اضافہ کیا گیا۔ اس مقام کے قریب ترین فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چوکی تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی، جہاں لگ بھگ 20 اہلکار موجود تھے۔

صبح تقریباً 11 بجے پولیس چوکی کی جانب سے دور سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاع دی گئی۔ اگرچہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی، تاہم چوکی کے انچارج نے پولیس ہیڈکوارٹر کو آگاہ کیا کہ موجودہ نفری دفاع کے لیے کافی ہے۔ اس دوران پولیس ہیڈکوارٹر اور ایف سی حکام مسلسل رابطے میں رہے۔

یہ بھی پڑھیں : کوئٹہ ،وزیراعظم کی زیرصدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس شروع، فیلڈ مارشل سید عاصم منیربھی شریک

احتیاطی تدبیر کے طور پر پولیس ہیڈکوارٹر نے تقریباً 35 اہلکاروں پر مشتمل خصوصی کمک روانہ کی، جبکہ فرنٹیئر کور نے فضائی نگرانی اور معاونت کے لیے ایک مسلح ہیلی کاپٹر بھی علاقے میں بھیجا، جس نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک فضائی نگرانی جاری رکھی۔

حکام کے مطابق دہشت گردوں کی حکمت عملی یہ تھی کہ وقفے وقفے سے فائرنگ کرکے پولیس کو زیادہ سے زیادہ گولہ بارود استعمال کرنے پر مجبور کیا جائے۔ شام ہونے تک چوکی پر موجود اہلکار اپنے بیشتر گولہ بارود کا استعمال کر چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : کوئٹہ: سریاب مل کے علاقے میں کالعدم بی ایل اے کا مدرسے پر دستی بم حملہ، 2 بچے شہید، ایک زخمی

جب اضافی نفری چوکی کے قریب پہنچی تو دہشت گردوں نے اس پر بھی فائرنگ شروع کر دی، جس کے باعث کمک کو کچھ فاصلے پر رکنا پڑا۔ اس دوران ایف سی نے وی ٹی او ایل طیاروں اور مارٹر فائر کی مدد سے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا، جس کی آڑ میں کمک نے آگے بڑھنے کی کوشش جاری رکھی۔

سورج غروب ہونے کے بعد دہشت گردوں نے چوکی پر براہ راست حملہ کر دیا۔ پولیس اہلکاروں نے آخری دم تک مزاحمت کی جبکہ ایف سی اور پولیس کی کمک بھی ان تک پہنچنے کی کوشش کرتی رہی۔ شدید جھڑپوں کے دوران 15 دہشت گرد مارے گئے، تاہم چوکی پر تعینات 9 پولیس اہلکار وطن پر قربان ہو گئے جبکہ 3 اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں بعد میں کمک پہنچنے پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : مانگی ڈیم حملہ: 11 مغوی پولیس اہلکار بازیاب، 15 کی تلاش جاری

حکام کے مطابق گولہ بارود ختم ہونے کے بعد ڈی ایس پی سمیت باقی 28 پولیس اہلکاروں نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو گروپوں میں وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔ ان میں سے ایک گروپ، جس کی قیادت خود ڈی ایس پی کر رہے تھے، محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا، جبکہ 18 اہلکاروں پر مشتمل دوسرا گروپ رات کے وقت دہشت گردوں کے ایک گروہ سے ٹکرا گیا اور انہیں یرغمال بنا لیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے کا جغرافیہ انتہائی دشوار گزار ہے، جہاں بلند و بالا پہاڑ، گہری دراڑیں اور پیچیدہ راستے موجود ہیں، جس کی وجہ سے کارروائیاں انتہائی احتیاط اور سست رفتاری سے کرنا پڑ رہی ہیں کیونکہ متعدد مقامات پر گھات لگائے جانے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آخری فسادی اور دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی ،وزیراعظم

ایف سی اور پاک فوج نے تین سو مربع کلومیٹر سے زائد پہاڑی علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ حکام کے مطابق جاری کارروائیوں کے دوران مزید 8 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

حکام نے کہا ہے کہ واقعے کے بعد مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے متضاد بیانیے پیش کیے جا رہے ہیں، تاہم سرکاری مؤقف کے مطابق پولیس اہلکاروں نے آخری لمحے تک اپنی چوکی کا دفاع کیا، جبکہ ایف سی اور پولیس کی کمک نے انتہائی جرات اور تیزی کے ساتھ کارروائی کی۔

حکام نے شہداء کی قربانیوں کو قوم کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنے بہادر اہلکاروں کی قربانیوں کی ہمیشہ مقروض رہے گی۔

Scroll to Top