بنگلادیش میں خارجہ پالیسی سیمینار کے دوران جموں و کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانے پر بھارتی وفد تلملا اٹھا، بھارتی سیکرٹری اور صحافی کے احتجاج پر بنگلادیشی سفارت کار طارق اے کریم نے مداخلت کرنے سے روکتے ہوئے کرارا جواب دے دیا۔
ڈھاکہ میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی خارجہ پالیسی سیمینار اس وقت شدید گرما گرمی کا شکار ہو گیا جب وہاں پریزنٹیشن کےلیے پیش کیے گئے ایک نقشے میں مقبوضہ کشمیر کے تمام علاقوں کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا۔
تقریب میں موجود بھارتی وزارت خارجہ کے سیکرٹری اور ایک بھارتی صحافی نے اس نقشے پر شدید سیخ پا ہوتے ہوئے فوری اعتراض اٹھایا اور مؤقف اختیار کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور سیمینار میں دکھایا گیا نقشہ سراسر غلط ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مودی کو آسٹریلیا، انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ کے دورے میں تاریخی سفارتی رسوائی کا سامنا
بھارتی وفد کی اس اچانک مداخلت اور نکتہ چینی پر سیمینار میں موجود بنگلادیش کے نامور سفارت کار طارق اے کریم نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور انہیں ٹوکتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بیچ میں مداخلت کرنے اور اپنی بات مسلط کرنے سے پہلے، وہ اول تو یہ سنیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ بنگلادیشی سفارت کار کے اس سخت جواب کے بعد سیمینار میں موجود بھارتی شرکا کو شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔





