ضلع ہنگو میں ایف سی قلعے پر قبضے کا دعویٰ جھوٹا اور گمراہ کن نکلا

خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں فیڈرل کانسٹیبلری (FC) کے قلعے پر قبضے سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا فتنہ الخوارج کا دعویٰ فیکٹ چیک میں مکمل طور پر جھوٹا اور من گھڑت ثابت ہوا ہے۔

گزشتہ روز فتنہ الخوارج کی جانب سے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کے ایک اہم ٹھکانے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہےتاہم سیکیورٹی ذرائع اور زمینی حقائق نے اس ڈیجیٹل پروپیگنڈے کا پول کھول دیا ہے۔

تحقیق اور سیکیورٹی ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق قلعے پر قبضے کا یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی باقاعدہ منتقلی (روٹیشن) کے دوران یہ مقام چند لمحات کے لیے عارضی طور پر خالی تھا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خوارج صرف ایک پروپیگنڈا ویڈیو بنانے کی غرض سے چوری چھپے اندر داخل ہوئے۔ یہ عناصر وہاں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے میں ناکام رہے اور سیکیورٹی فورسز کے دستوں کی آمد سے قبل ہی موقع سے فرار ہو گئے۔

ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ قلعہ اس وقت مکمل طور پر پاک فوج کے مضبوط کنٹرول میں ہے اور وہاں باقاعدہ طور پر چاک و چوبند دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : منگی ڈیم پولیس اسٹیشن واقعہ:آپریشن شعبان میں مزید 13 خارجی ہلاک،تعداد39ہوگئی

حکام کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ دشمن کے ایسے کسی بھی ڈیجیٹل پروپیگنڈے اور نفسیاتی حربوں پر کان نہ دھریں اور سوشل میڈیا پر موجود غیر مصدقہ دعووں یا گمراہ کن ویڈیوز کو بغیر تصدیق کے شیئر کرنے سے مکمل پرہیز کریں۔

Scroll to Top