عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے زیرِ اہتمام مالاکنڈ میں ایک عظیم الشان “لویہ جرگہ” منعقد ہوا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، اراکینِ اسمبلی، وکلاء، تاجر برادری، ہوٹل ایسوسی ایشنز، ٹرانسپورٹرز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
جرگے نے وفاقی حکومت کی جانب سے مالاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا (ضم اضلاع) میں ٹیکس نفاذ کے فیصلے پر تفصیلی غور و خوض کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ٹیکسوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹیکسوں کا نفاذ عوام کے ساتھ کیے گئے تاریخی اور آئینی وعدوں کے منافی ہے۔ جرگے نے وفاقی حکومت سے یہ فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت سے بھی پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں 2024 سے نافذ العمل سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے اور متعلقہ ریگولیشن ترمیم فوری واپس لی جائے۔
جرگے کے شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ مالاکنڈ اور سابق فاٹا طویل عرصے تک دہشت گردی، سیلاب اور قدرتی آفات سے شدید متاثر رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کی سیاحت، زراعت اور مقامی معیشت پہلے ہی تباہ ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ یہاں کے متاثرہ عوام پر ناقابلِ برداشت معاشی بوجھ ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق، مالاکنڈ ڈویژن ملک کو معدنیات، جنگلات اور بجلی کی صورت میں بے پناہ وسائل دیتا ہے، لہٰذا آئین کے تحت ان قدرتی وسائل کی آمدن پر پہلا حق مقامی آبادی کا تسلیم کیا جائے۔ جرگے نے مطالبہ کیا کہ ضم اضلاع کی معدنیات کی آمدن کا 60 فیصد حصہ مقامی عوام پر لگایا جائے، اور مالاکنڈ میں موجود 7 ہائیڈل پاور پراجیکٹس کی پیدا کردہ بجلی یہاں کے عوام کو نیشنل گریڈ کی قیمت پر فراہم کی جائے۔
جرگے نے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم اور این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے بروقت اجراء کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط پوری کرنے کے لیے مالاکنڈ اور ضم اضلاع کے عوام کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے، اور یہاں حاصل ٹیکس استثنیٰ کو برقرار رکھا جائے۔
اعلامیے میں دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان علاقوں میں سیاحت کے فروغ، تباہ حال بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی بحالی، اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے فوری طور پر “خصوصی ترقیاتی پیکیج” کا اعلان کیا جائے۔ مزید برآں، خطے سے متعلق کسی بھی آئینی یا مالیاتی فیصلے سے قبل مقامی اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کو لازمی قرار دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں پیشہ ور گداگری کے خاتمے کے لیے نیا قانون متعارف، بچوں سے بھیک منگوانے پر سخت سزائیں تجویز
لویہ جرگے نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر ٹیکس نفاذ کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا، تو تمام سیاسی و عوامی قوتوں کے اتحاد سے آئین و قانون کے دائرے میں مرحلہ وار “عوامی تحریک” شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر انتظامی و سیاسی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔





