مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور امریکا میں شرح سود میں اضافے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا، جس کے باعث سونے کی آئندہ سمت پر نظریں مرکوز ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں گزشتہ کاروباری سیشن میں ہونے والی نمایاں کمی کے بعد دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور امریکا میں شرح سود میں ممکنہ اضافے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپاٹ گولڈ تقریباً 4 ہزار 10 ڈالر فی اونس کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ گزشتہ کاروباری روز سونے کی قیمت میں 2.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں پر کئی عوامل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایک جانب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا میں شرح سود بڑھنے کے امکانات نے قیمتی دھاتوں کے لیے دباؤ پیدا کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بحال کرنے کے اعلان اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی کارگو پر اضافی ادائیگی کے مطالبے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، جس کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی پڑے۔ خام تیل اور یورپی قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے افراطِ زر بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات مضبوط ہو رہے ہیں۔ چونکہ سونا کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتا، اس لیے بلند شرح سود کے ماحول میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں کمی آ سکتی ہے، جس سے سونے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔
سرمایہ کار اب امریکی معاشی اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ پالیسی فیصلوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کی مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے۔
عالمی مالیاتی مارکیٹ میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کے سرمایہ کاروں کے لیے آنے والے دن انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔





