پشاور ،غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن تیز، دو روز میں 14 ہزار روانہ، کارروائیاں مزید بڑھ گئیں

پشاور ،غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن تیز، دو روز میں 14 ہزار روانہ، کارروائیاں مزید بڑھ گئیں

پشاور میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں، جہاں حکام نے گزشتہ دو روز کے دوران 14 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کرنے کے بعد افغانستان منتقل کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایات پر پشاور میں خصوصی ٹیموں نے آپریشن کا دائرہ مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت آج سے شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر زیر استعمال دکانوں، مارکیٹوں، رہائشی عمارتوں اور دیگر املاک کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی۔

حکام کے مطابق پشاور کے متعدد تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں ایسی جائیدادوں کی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے زیر استعمال ہیں۔

دوسری جانب کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیے گئے بعض کاروباری افراد کی رہائی کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کچھ افراد کو تاجر تنظیموں اور مقامی نمائندوں کی سفارشات پر رہا کیا گیا، جبکہ بعض پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی مبینہ طور پر رشوت لے کر رہائی دینے کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا سلسلہ آئندہ دنوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ حکام کے مطابق غیر قانونی قیام اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطے کے مطابق اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top