بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کڈنکلم سے متعلق حساس دستاویزات ڈارک ویب پر لیک ہو گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا مبینہ طور پر پلانٹ کے کنٹریکٹر ریلائنس گروپ کے سرور سے چوری کیا گیا ہے۔ رینسم ویئر گروپ ‘ورلڈ لیکس’ نے ڈارک ویب پر 19,000 سے زائد فائلیں پوسٹ کی ہیں جن میں پاور پلانٹ کے بعض حصوں کے نقشے، وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹم کے ڈیزائن، اور سپلائرز کی تفصیلات شامل ہیں۔
ریاست تامل ناڈو میں واقع کڈنکلم نیوکلیئر پاور پلانٹ انڈیا کے 7 جوہری پلانٹس میں سب سے بڑا ہے اور یہ ملک کی ایٹمی توانائی کی صلاحیت کو بڑھانے کے منصوبوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
ریلائنس گروپ نے رائٹرز کو دیے گئے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ایک تھرڈ پارٹی ڈیٹا سینٹر سروس پرووائیڈر ‘یوٹا’ کے سرور پر موجود ان کے ڈیٹا میں جزوی نقب لگائی گئی ہے، اور اس واقعے کے بارے میں حکومت کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ اصل میں کون سا ڈیٹا چوری ہوا ہے۔ نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو کے سینیئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا بریچ سے پلانٹ کی حفاظت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ لیک ہونے والی دستاویزات کے مطابق ریلائنس گروپ کی ذیلی کمپنی ریلائنس انفراسٹرکچر نے 2018 میں اس پلانٹ کے یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے لیے انفراسٹرکچر ڈیزائن اور تعمیر کرنے کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ یہ دونوں یونٹس اس وقت زیر تعمیر ہیں اور 2027 تک فعال ہونے کی امید ہے، جن سے مجموعی طور پر 2,000 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔ ڈارک ویب پر پوسٹ کی گئی دستاویزات میں مبینہ طور پر یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے بلیو پرنٹس اور ایک مشترکہ کنٹرول روم کا فلور لے آؤٹ شامل ہے۔ تاہم، ان فائلوں میں نیوکلیئر ریکٹر کے بنیادی سسٹمز سے متعلق معلومات نہیں ہیں، جو روس کی سرکاری کمپنی روساٹم فراہم کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی ‘سرٹ ان’ (CERT-In) اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ریلائنس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بھارتی کمپنیوں کی امریکامیں بھی ویزہ جعلسازی،بڑا سکینڈل سامنے آگیا
دوسری جانب ورلڈ لیکس نامی ہیکر گروپ نے اس معاملے پر رائٹرز کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ یہ گروپ عام طور پر کمپنیوں سے تاوان طلب کرتا ہے اور رقم نہ ملنے پر چوری شدہ ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر پبلک کر دیتا ہے۔ دستاویزات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ریلائنس انفراسٹرکچر اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے ایک انشورنس پالیسی لے رکھی ہے جس کے تحت یونٹ 3 یا یونٹ 4 پر کسی دہشت گردی کی صورت میں انہیں 112 ملین ڈالر ملیں گے۔





