انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے مینز ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے روایتی فارمیٹس میں بڑی تبدیلیاں منظور کر لی ہیں۔
ان انقلابی تبدیلیوں کا بنیادی مقصد عالمی مقابلوں میں سنسنی اور شائقین کی دلچسپی کو آخری مرحلے تک برقرار رکھنا ہے۔
نئے فیصلوں کے تحت اب چودہ ٹیموں کا ون ڈے ورلڈ کپ تین نئے مراحل پر کھیلا جائے گا۔ ابتدائی گروپ مرحلے کے بعد صرف سات بہترین ٹیمیں سپر سات مرحلے میں جگہ بنا سکیں گی۔
اس سپر سات مرحلے میں سیمی فائنل کی دوڑ انتہائی سخت ہوگی۔ مرحلے کے اختتام پر پوائنٹس ٹیبل کی صرف ٹاپ چار ٹیمیں ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر پائیں گی۔
دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فارمیٹ کو بھی یکسر بدل دیا گیا ہے۔ بیس ٹیموں کے اس بڑے ایونٹ میں اب سپر آٹھ کے بجائے سپر دس کا مرحلہ متعارف کروایا گیا ہے۔
نئے فارمیٹ کے تحت ہر گروپ سے دو ٹیمیں براہِ راست اگلے مرحلے میں جائیں گی۔ تاہم دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے ایلیمنیٹر میچز کھیلنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : فٹبال ورلڈ کپ نے پاکستانیوں کو بھی دیوانہ بنا دیا، بڑی اسکرینوں پر سیمی فائنل سے لطف اندوز ہوئے
آئی سی سی نے ایسوسی ایٹ ممالک کے لیے سولہ ٹیموں پر مشتمل ایک نئے ٹورنامنٹ کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ یہ ایونٹ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل کھیلا جائے گا جس کی حتمی منظوری نومبر کے اجلاس میں متوقع ہے۔
اس کے علاوہ کونسل نے دو ہزار اٹھائیس کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ نظام کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس نئے کوالیفائنگ سسٹم کے تحت اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو خصوصی رعایت دی گئی ہے۔





