فتنۃ الخوارج بوکھلاہٹ کا شکار، خالی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ کر ڈالا

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کاری کوٹ میں مبینہ خودکش حملے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کو سیکیورٹی ذرائع نے مسترد کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں کسی سیکیورٹی پوسٹ پر ایسا کوئی حملہ نہیں ہوا جس کے نتیجے میں جانی یا مالی نقصان ہوا ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی معلومات حقائق کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد غلط تاثر پیدا کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق وانا کاری کوٹ میں جس مقام کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، وہ پوسٹ 15 روز قبل ہی خالی کی جا چکی تھی اور وہاں کسی اہلکار کی تعیناتی نہیں تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں صرف خودکش حملہ آور ہلاک ہوا، جبکہ کسی اور نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور حملے کے حوالے سے مختلف دعوے پھیلائے گئے۔

ایکس (سابق ٹوئٹر) پر موجود بعض اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے کاری کوٹ میں خودکش دھماکے کے بعد شدید فائرنگ ہوئی اور مبینہ طور پر سیکیورٹی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : لوئر دیر: لڑم ٹاپ سر پر سرچ آپریشن کے دوران پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ، 15 اہلکار زخمی

ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را سے منسوب کیے جانے والے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی واقعے سے متعلق دعوے شیئر کیے، جن میں حملے اور نقصان کے حوالے سے مختلف معلومات پیش کی گئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے اکاؤنٹس ماضی میں بھی پاکستان مخالف بیانیے اور گمراہ کن معلومات پھیلانے میں ملوث رہے ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر کیے جانے والے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ علاقے میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور سیکیورٹی فورسز معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دشمن عناصر کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی معلومات اور منفی پروپیگنڈا پھیلانے کی کوششیں کی جاتی ہیں، تاہم ایسے بیانیوں کو حقائق کی بنیاد پر ناکام بنایا جا رہا ہے۔

Scroll to Top