اسلام آباد: بیرون ملک روزگار کے خواہشمند پاکستانیوں، خصوصاً نرسنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے خوشخبری ہے، کیونکہ جرمنی میں تربیت یافتہ نرسوں کی شدید قلت کے باعث ملازمت کے وسیع مواقع دستیاب ہیں۔
بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او ای) کے مطابق جرمنی میں عمر رسیدہ آبادی میں اضافے اور صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر غیر ملکی نرسوں کی بھرتی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
بی ای او ای کا کہنا ہے کہ پاکستانی نرسیں، جن کے پاس مستند ڈپلومہ یا ڈگری موجود ہے، جرمنی میں ملازمت کے لیے درخواست دے سکتی ہیں، تاہم اس کے لیے سب سے پہلے اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ اسناد کی جرمن حکام سے باضابطہ منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
حکام کے مطابق امیدواروں کو جرمن زبان پر عبور بھی حاصل ہونا چاہیے اور کم از کم بی ٹو (B2) سطح کا جرمن زبان کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی و ذہنی صحت کا میڈیکل سرٹیفکیٹ، اچھے کردار اور مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونے کا ثبوت بھی درکار ہوگا۔
جرمنی میں نرسنگ ایک ریگولیٹڈ پیشہ ہے، اس لیے مستقل ملازمت کے لیے متعلقہ سرکاری ادارے سے پیشہ ورانہ اجازت نامہ (لائسنس) حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر غیر ملکی ڈگری جرمن معیار کے مطابق مکمل تسلیم نہ ہو تو امیدوار کو علمی امتحان یا اضافی تربیتی پروگرام مکمل کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فیفا ورلڈ کپ 2026: ارجنٹینا نے انگلینڈ کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی
حکام کے مطابق امیدوار چاہیں تو براہِ راست جرمنی کے تربیتی پروگرام میں بھی داخلہ لے سکتے ہیں، جس سے منظوری کا عمل نسبتاً تیز اور کم لاگت میں مکمل ہو سکتا ہے۔
جرمنی میں نرسوں کو اسپتالوں، نرسنگ ہومز، طبی بحالی مراکز، گھریلو نگہداشت کے اداروں اور پالی ایٹو کیئر سینٹرز میں ملازمت کے مواقع میسر ہیں، جہاں ان کی ذمہ داریوں میں مریضوں کی دیکھ بھال، طبی ریکارڈ کی تیاری، علاج میں معاونت اور روزمرہ ضروریات میں مریضوں کی مدد شامل ہے۔
بی ای او ای کے مطابق یورپی یونین سے باہر کے ممالک، بشمول پاکستان، کے شہریوں کو جرمنی میں ملازمت کے لیے رہائشی اجازت نامہ (ریذیڈنس پرمٹ) حاصل کرنا ہوگا، جبکہ نرسنگ کے شعبے پر یورپی یونین بلیو کارڈ کا اطلاق نہیں ہوتا۔
جرمن حکومت نے غیر ملکی نرسوں کی رہنمائی، بھرتی اور پیشہ ورانہ منظوری کے لیے مختلف سرکاری پروگرام، پلیسمنٹ ایجنسیاں اور رہنمائی مراکز بھی قائم کیے ہیں تاکہ صحت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی افرادی قوت کی ضرورت پوری کی جا سکے۔





