عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد توانائی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ساڑھے چار فیصد اضافے کے بعد برطانوی برینٹ کروڈ آئل 88 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 82 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
اس سے قبل برطانوی برینٹ کروڈ آئل 84.21 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو اضافے کے بعد بڑھ کر 88 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔ اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت 80.79 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 82 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی بے یقینی شامل ہیں۔ ان عوامل کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ اس کے اثرات پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ، بجلی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی عالمی منڈی کی یہ صورتحال اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں پر اضافی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔





