ریال کی قیمت گر گئی، پاکستانی خریدار کیوں خریدنے لگے؟ اصل وجہ سامنے آگئی

ریال کی قیمت گر گئی، پاکستانی خریدار کیوں خریدنے لگے؟ اصل وجہ سامنے آگئی

ایرانی ریال تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار، ایک ڈالر کی قیمت 19 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔معاشی بحران اور پابندیوں کے دباؤ میں گھری ایران کی کرنسی کے مستقبل پر بڑے سوالات اٹھنے لگے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی کرنسی مسلسل دباؤ کے بعد تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جہاں اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ کمی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں بعض خریداروں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے ایرانی ریال خریدنے کا رجحان برقرار ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 17 جولائی 2026 کو ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 19 لاکھ 18 ہزار ایرانی ریال تک پہنچ گئی، جو اس سے قبل قائم ہونے والے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔ اس دوران برطانوی پاؤنڈ تقریباً 25 لاکھ 80 ہزار ریال جبکہ یورو 21 لاکھ 90 ہزار ریال سے زائد میں ٹریڈ کرتا رہا۔

ماہرین کے مطابق ایرانی ریال کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کے باعث ملک میں مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اندازوں کے مطابق 2026 میں ایران میں مہنگائی کی شرح بلند سطح پر رہنے جبکہ معیشت کو سکڑاؤ کا سامنا کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی صورتحال، بین الاقوامی پابندیاں، توانائی کے شعبے میں مشکلات، تجارت اور نقل و حمل میں رکاوٹوں سمیت خطے کی غیر یقینی صورتحال نے ایرانی معیشت کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا، خام مال اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں بھی ایرانی ریال کے نرخوں میں فرق دیکھا جا رہا ہے۔ 17 جولائی 2026 کے انٹر بینک اور مڈ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ایک ایرانی ریال تقریباً 0.000202 پاکستانی روپے کے برابر رہا، جبکہ ایک پاکستانی روپے کے بدلے تقریباً 4 ہزار 950 ایرانی ریال مل رہے تھے۔

اوپن مارکیٹ میں مختلف شہروں کے حساب سے نرخ مختلف رہے، جہاں چند مقامات پر 6 ہزار سے 7 ہزار پاکستانی روپے میں تقریباً ایک کروڑ ایرانی ریال خریدے جانے کی اطلاعات ہیں۔

کرنسی ڈیلرز کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستانی خریداروں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے ایرانی ریال میں دلچسپی برقرار ہے۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں ایران پر پابندیوں میں نرمی آتی ہے یا سیاسی و معاشی حالات بہتر ہوتے ہیں تو ریال کی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاشی غیر یقینی، علاقائی کشیدگی اور پابندیوں کے باعث ایرانی ریال میں سرمایہ کاری خطرات سے خالی نہیں۔

Scroll to Top