کمائی وہی، خرچے دگنے! پیٹرول مہنگا ہوتے ہی عوام کا صبر جواب دے گیا، مہنگائی نے شہریوں کو رُلا دیا

کمائی وہی، خرچے دگنے! پیٹرول مہنگا ہوتے ہی عوام کا صبر جواب دے گیا، مہنگائی نے شہریوں کو رُلا دیا

شہریوں کا کہنا ہے کہ کمائی میں اضافہ نہیں ہوا مگر مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے، حکومت فوری ریلیف دے تاکہ عام آدمی پر بڑھتا مالی بوجھ کم ہو سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد شہریوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جبکہ آمدنی میں اضافہ نہ ہونے کے باعث روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

شہریوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد سفری اخراجات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ “کمائی وہی ہے مگر خرچے دگنے ہو چکے ہیں، پیٹرول نہیں بلکہ ہماری جیب جل رہی ہے۔” ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر عوام کو ریلیف فراہم کرے تاکہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 34 روپے 33 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 276 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ اس سے قبل مٹی کا تیل 242 روپے 33 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 18 سے 20 جولائی تک کے لیے کیا گیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مہنگائی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جس کے اثرات ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔

Scroll to Top