چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا نوجوان سائنس دانوں سے نئی ٹیکنالوجی تخلیق کرنے پر زور

چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن( پی اے ای سی ) ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے نوجوان سائنس دانوں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف دوسری اقوام کی تیار کردہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے نہ رہیں بلکہ خود نئی ٹیکنالوجی تخلیق کریں۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر اہتمام 6 سے 18 جولائی تک منعقدہ 51ویں بین الاقوامی نتھیا گلی سمر کالج کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی اے ای سی نے کہا کہ سائنس، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری ہی پاکستان کو مستقبل میں ترقی یافتہ، خود کفیل اور عالمی سطح پر نمایاں مقام دلا سکتی ہے۔

دو ہفتوں پر محیط اس عالمی سائنسی پروگرام میں پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے ممتاز سائنس دانوں، محققین اور نوجوان اہلِ علم نے شرکت کی۔ اس دوران جدید سائنسی شعبوں پر علمی مباحث، تحقیقی نشستیں اور مختلف موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ڈاکٹر راجہ علی رضا انورنے کہا کہ دنیا اس وقت مصنوعی ذہانت، جدید صنعتی پیداوار، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور صاف توانائی جیسے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جہاں قوموں کی ترقی کا انحصار قدرتی وسائل سے زیادہ علم، تحقیق، اختراع، صلاحیت اور ٹیکنالوجی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور وہ نئی ٹیکنالوجی تیار کرکے نہ صرف قومی ترقی بلکہ عالمی مسائل کے حل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نتھیا گلی سمر کالج گزشتہ پانچ دہائیوں سے نوجوان محققین کو دنیا کے ممتاز سائنس دانوں سے جوڑنے، تحقیق، اختراع، باہمی تعاون اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ادارے کے بہت سے سابق شرکاء آج ملک اور بیرونِ ملک کی معروف جامعات، تحقیقی اداروں، صنعتوں اور قومی اہمیت کے اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جو اس پروگرام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اس سال کے سمر کالج میں ایسے موضوعات شامل کیے گئے جو پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت اور خودکار سیکھنے کا نظام (مشین لرننگ)، جدید صنعتی تیاری کے طریقے، زراعت اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی میں ایٹمی تکنیکوں کا استعمال، صحت اور ماحولیات میں ایٹمی ٹیکنالوجی، اور پلازما سائنس و امتزاجی توانائی میں جدید پیش رفت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبے صنعتی ترقی، غذائی تحفظ، بہتر علاج، ماحول کے تحفظ اور مستقبل کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

چیئرمین نے کہا کہ سمر کالج کے موضوعات حکومتِ پاکستان کے ‘اڑان پاکستان وژن’ سے مکمل ہم آہنگ ہیں، جس کا مقصد جدت، ڈیجیٹل تبدیلی، صنعتی ترقی اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار معاشی ترقی حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سائنسی پلیٹ فارم اعلیٰ تربیت یافتہ سائنس دان تیار کرکے پاکستان کے اختراعی نظام کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سال سمر کالج کے دوران چین کے ادارۂ تحقیقِ کپاس کے ساتھ زراعت اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ اسی طرح بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ تکنیکی نشستوں میں مشترکہ تحقیق، نئی ٹیکنالوجی کی تیاری اور طویل المدتی ادارہ جاتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس سے پاکستان کی سائنسی سفارت کاری اور عالمی تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔

اس سال کے سمر کالج میں 20 ممالک کے 45 ممتاز سائنس دانوں نے شرکت کی، جبکہ تقریباً 300 منتخب شرکاء نے براہِ راست شرکت کی اور سینکڑوں افراد نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ذریعے لائیو اسٹریمنگ (براہِ راست نشریات) کے ذریعے پروگرام میں حصہ لیا۔

چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں مسلسل کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن صاف اور ماحول دوست ایٹمی بجلی پیدا کر رہا ہے، ملک بھر میں قائم 21 ایٹمی توانائی سرطان (کینسر) ہسپتالوں کے ذریعے جدید علاج فراہم کر رہا ہے، غذائی تحفظ کے لیے بہتر فصلوں کی اقسام تیار کر رہا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، جدید مواد اور سیمی کنڈکٹر علوم سمیت جدید تحقیقی شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔

انہوں نے نوجوان سائنس دانوں پر زور دیا کہ وہ اس سمر کالج سے حاصل ہونے والے علم کو اپنی تحقیق اور اختراع کے ایک نئے سفر کا آغاز سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل انہی افراد کے ہاتھ میں ہے جو نئی سوچ پیدا کریں، مقامی ٹیکنالوجی تیار کریں اور اپنے خیالات کو عملی شکل دیں۔

چیئرمین نے منتظمین، قومی و بین الاقوامی ماہرین، شراکت دار اداروں اور تمام شرکاء کو کامیاب انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ سائنس، تحقیق، اختراع اور انسانی وسائل میں مسلسل سرمایہ کاری پاکستان کو مستقبل کی سائنسی اور تکنیکی ترقی میں نمایاں مقام دلائے گی۔

اس موقع پر ممبر سائنس (پاکستان اٹامک انرجی کمیشن) ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے کہا کہ اس سال سمر کالج میں پاکستان کی ابھرتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت، ماحولیات، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور زراعت میں ایٹمی تکنیکوں کے استعمال جیسے نئے موضوعات شامل کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سائنسی نشستیں، تکنیکی مباحث، شرکاء کا تجسس اور ماہرین کی رہنمائی اس پروگرام کی نمایاں خصوصیات رہیں، جن کے نتیجے میں دیرپا سائنسی روابط اور نئے تحقیقی تعاون کی بنیاد رکھی گئی۔ انہوں نے چین اور ملائیشیا کے ماہرین کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے زراعت، ماحولیات، آئسوٹوپ ہائیڈرولوجی (ہم جوہری آبیات) اور فیول سیل (ایندھن کے برقی خلیوں) کی ٹیکنالوجی میں تعاون کے نئے امکانات پیدا کیے، جبکہ آسٹریا کی میڈیکل یونیورسٹی ویانا کے ڈاکٹر گیرڈ ہیلمر کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستانی تحقیقی اداروں کو ریڈیو تھراپی سے متعلق اپنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی لیبارٹری تک بلا معاوضہ رسائی فراہم کی۔

اس سے قبل سائنٹفک سیکریٹری انٹرنیشنل نتھیاگلی سمر کالج ڈاکٹر راحت اللہ نے دو ہفتوں کے دوران ہونے والی سرگرمیوں، اہم موضوعات اور حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

سمر کالج کے دوران تحقیقی پوسٹرز کا مقابلہ بھی منعقد کیا گیاجس کا جائزہ بین الاقوامی ماہرین نے لیا۔ مقابلے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی سلکہ جاوید نے پانی کے معیار پر تحقیق پیش کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ قائدِاعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی رباب منصور نے شمالی علاقوں میں مائیکرو پلاسٹک (خرد پلاسٹک) کے ماحولیاتی اثرات پر تحقیق کے ذریعے دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ کامسیٹس یونیورسٹی لاہور کی مس آمنہ ذکاء اللہ تیسری پوزیشن کی حقدار قرار پائیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیراہتمام پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکا تھون کامیابی سے مکمل

تقریب کے اختتام پر چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کامیاب شرکاء میں انعامات تقسیم کیے اور قومی و بین الاقوامی ماہرین کو یادگاری شیلڈز پیش کیں۔

Scroll to Top