خیبر پختونخوا ورکرز ویلفیئر بورڈ میں گریڈ 19 کی اہم آسامی پر باہر سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے گریڈ 18 کے آفیسر کو مستقل بنیادوں پر بورڈ میں ضم کرنے کی ممکنہ منظوری کے خلاف بورڈ کے افسران اور ملازمین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
بورڈ ذرائع کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) سے ڈیپوٹیشن پر تعینات ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، سیف اللہ ظفر کو مستقل بنیادوں پر ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی تیاری ہو رہی ہے اور بورڈ کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں اس تجویز کو شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بورڈ اجلاس کے ایجنڈا آئٹم نمبر 4 کے طور پر خفیہ انداز میں شامل کیا گیا۔ورکرز ویلفیئر بورڈ کے افسران اور ملازمین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرکاری پالیسی کے تحت “Absorption” کی شق پہلے ہی ختم کی جا چکی ہے، جبکہ ورکرز ویلفیئر فنڈ نے بھی اس حوالے سے جاری کیا گیا سابقہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا تھا۔ اس کے باوجود دوبارہ مستقل بنیادوں پر دوسرے محکمہ کے آفیسر کو ضم کرنے کی کارروائی قواعد و ضوابط کے منافی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اگر اس تجویز کی منظوری دی گئی تو یہ نہ صرف سرکاری پالیسی کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ بورڈ کے ملازمین کے حقوق اور سروس اسٹرکچر بھی متاثر ہوں گے۔ ملازمین نے الزام عائد کیا کہ معاملے کو دانستہ طور پر خفیہ رکھا گیا تاکہ اس پر بروقت اعتراض نہ اٹھایا جا سکے۔
بورڈ کے افسران اور ملازمین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ آفیسر کی مستقل طور پر اس پوسٹ پر ضم کرنے کی تجویز پر کارروائی فوری طور پر روکی جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور تمام فیصلے سرکاری قواعد و ضوابط کے مطابق کیے جائیں۔





