خیبر: جمرود کے علاقے تودہ میلہ ہاشم خان کلے میں گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول گزشتہ کئی برسوں سے مستقل اساتذہ کی عدم دستیابی کا شکار ہے، جس پر مقامی مشران اور شہریوں نے احتجاجاً اسکول کو تالے لگا کر بند کردیا۔
مقامی افراد کے مطابق مذکورہ اسکول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حلقہ پی کے 70 میں واقع ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اساتذہ کی تعیناتی کے لیے محکمہ تعلیم کے متعلقہ دفاتر میں متعدد درخواستیں جمع کرائیں اور کئی بار چکر لگائے، تاہم مسئلے کا مستقل حل نہیں نکالا جاسکا۔
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر میں سرکاری تعلیمی اداروں کو اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے تالے لگ رہے ہیں، جبکہ وزیرِ اعلیٰ دوسرے صوبوں کی شاہراہوں پر دھرنوں میں مصروف ہیں pic.twitter.com/jO74X9XZ2M
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) September 9, 2026
مقامی افراد کے مطابق اسکول میں اس وقت 184 بچے رجسٹرڈ ہیں، جبکہ چھ کلاسوں کے لیے صرف دو کمرے دستیاب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محدود عمارت اور اساتذہ کی کمی کے باعث بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
علاقہ مشران نے واضح کیا کہ وہ عارضی یا کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات اساتذہ کو مستقل حل نہیں سمجھتے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اسکول میں کم از کم تین سے چار مستقل اساتذہ تعینات کیے جائیں تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رہ سکے۔
مقامی افراد نے اسکول تک رسائی کے لیے سڑک کی خراب حالت کی بھی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق بارشوں کے دوران راستے اور اسکول کے گراؤنڈ میں پانی جمع ہوجاتا ہے، جس سے بچوں کو اسکول پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں مناسب سڑک اور دیگر بنیادی سہولیات کی بھی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا فیصلہ، سابق فاٹا اورپاٹا کی صنعتیں سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار
مقامی افراد کے مطابق اسکول میں پانی کی سہولت بھی دستیاب نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کے حصول کے لیے ٹیسٹ کرایا گیا تھا، جس میں تقریباً 184 فٹ کی گہرائی پر پانی کی موجودگی کی رپورٹ سامنے آئی، تاہم اس کے باوجود اسکول میں پانی کی فراہمی کا انتظام نہیں کیا گیا۔
مظاہرین نے بتایا کہ اسکول تک راستہ بہتر بنانے کے لیے مقامی سطح پر اپنی مدد آپ کے تحت بھی اخراجات کیے گئے، تاہم بنیادی مسائل تاحال برقرار ہیں۔
مقامی مشران نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور محکمہ تعلیم کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول کے مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مستقل اساتذہ تعینات کیے جائیں، عمارت میں مزید کمرے تعمیر کیے جائیں اور پانی و سڑک سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متعدد درخواستوں کے باوجود مسئلہ حل نہ ہونے پر انہیں احتجاجاً اسکول بند کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر علاقے کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیں اور بچیوں کی تعلیم کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔





