کامران علی شاہ
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو پرامن انصاف مارچ ہوگا، یہ شوقیہ مارچ نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے ہوگا، جس میں کسی قسم کا انتشار نہیں پھیلایا جائے گا اور نہ ہی سرکاری وسائل استعمال کیے جائیں گے۔
پشاور ہائیکورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کے دوران ملنے والی پذیرائی سے ان کا حوصلہ بڑھا ہے۔ ان کے بقول اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام اب اسٹیٹس کو سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پرامن ہوگا اور اس کے ذریعے ثابت کیا جائے گا کہ پارٹی کے کارکن پرامن ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے توقع ظاہر کی کہ مولانا فضل الرحمن اور تمام جوائنٹ اپوزیشن 27 ستمبر کے مارچ میں ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ عوام جمہوری انداز میں تبدیلی چاہتے ہیں، جس میں تمام شہریوں کے حقوق محفوظ ہوں، نئے انتخابات ہوں اور ملک میں سیاسی استحکام پیدا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صلح حدیبیہ کی طرز پر ایسی صلح ہونی چاہیے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں، عوام کو ریلیف ملے اور سب کے حقوق محفوظ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں : قبائلی اضلاع میں جاری ٹرانسپورٹ فیسلیٹیشن پراجیکٹ سے 38 ملازمین فارغ
ان کے مطابق اگر ایسا پاکستان تشکیل پاتا ہے تو ملک ترقی کرے گا اور عوام خوشحال ہوں گے۔ عوام اب سیاسی تناؤ اور تقسیم سے بیزار ہوچکے ہیں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ صوبے آزمائشی طور پر نہیں بننے چاہئیں اور اس معاملے میں جلد بازی سے کام لینے سے نقصان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہئیں جن سے وفاق کو نقصان پہنچے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں 150 سال سے 52 ریاستیں ہیں، جبکہ وہاں کی آبادی پاکستان سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی ریاست اترپردیش کی آبادی 25 کروڑ ہے، جو پورے پاکستان کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کی صحت کا مسئلہ ہے اور چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت بانی پی ٹی آئی کے اصولوں پر قائم ہے۔
نرسنگ کالج کے واقعے پر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ پر پولیس تشدد انتہائی افسوسناک ہے۔
ان کے مطابق نرسنگ کے سینئر وائس پریزیڈنٹ نے ان سے رابطہ کیا، جس کے بعد انہوں نے صوبائی وزیر مینا خان اور حلیق الرحمن سے بھی رابطہ کیا، جنہوں نے انہیں بتایا کہ واقعے پر ایکشن لیا گیا ہے اور متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ
بیرسٹر گوہر نے یقین دہانی کرائی کہ جو لوگ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے اور پرامن احتجاج کریں گے، ان پر تشدد نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے صوبوں سے متعلق بیان پر پی ٹی آئی چیئرمین نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر پارٹی کی کور کمیٹی اور پولیٹیکل کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔
ملک میں دہشت گردی کے حوالے سے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پاکستان کا بیانیہ یہ ہے کہ ہر دہشت گردی کے پیچھے ہندوستان اور ’را‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمنوں کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ذاتی اور سیاسی بیانات اپنی جگہ، تاہم ملک کا امن و امان سب سے مقدم ہے۔





