26 نومبر کیس میں عدالت کا بڑا فیصلہ، وزیراعظم سمیت چار وفاقی وزرا کیخلاف کارروائی کی درخواست خارج

26 نومبر کیس میں عدالت کا بڑا فیصلہ، وزیراعظم سمیت چار وفاقی وزرا کیخلاف کارروائی کی درخواست خارج

26 نومبر احتجاج کیس میں اہم پیش رفت سامنے آگئی، عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف سمیت چار وفاقی وزرا کے خلاف کارروائی کی درخواست مسترد کردی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ افضل مجوکا نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی درخواست خارج کر دی، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو بڑا عدالتی ریلیف مل گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 26 نومبر احتجاج کیس میں اہم عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ افضل مجوکا نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے خلاف کارروائی کی درخواست مسترد کرنے کا 17 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بظاہر وزیراعظم اور دیگر وفاقی وزرا کے خلاف فوجداری کارروائی آگے بڑھانے کے لیے مطلوبہ قانونی بنیاد اور قابلِ قبول شواہد موجود نہیں۔ فیصلے کے مطابق محض زبانی الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی، جبکہ درخواست گزار اپنے الزامات کے حق میں مصدقہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔

سماعت کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اپنے وکیل ایڈووکیٹ خرم لطیف کھوسہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ 26 نومبر کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیر اطلاعات کے کردار کی تحقیقات کی جائیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بارہا مواقع فراہم کیے جانے کے باوجود بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے چشم دید گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کروائے گئے، جبکہ نجی شکایت کے ساتھ قانون کے مطابق گواہوں کی باقاعدہ فہرست بھی منسلک نہیں کی گئی۔

تحریری فیصلے کے مطابق شکایت میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، عمر ایوب، بشریٰ بی بی اور متعدد ارکان اسمبلی کو چشم دید گواہ قرار دیا گیا تھا، تاہم ان میں سے کوئی بھی عدالت میں آ کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش نہیں ہوا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے شکایت کے ساتھ مختلف اخبارات کی تراشوں پر مشتمل کئی والیمز تو جمع کرائے، لیکن الزامات کے حق میں کوئی مصدقہ ڈیجیٹل فوٹیج، ویڈیو ریکارڈنگ یا یو ایس بی (USB) بطور ثبوت پیش نہیں کی گئی، جس سے دعوؤں کی تصدیق ہو سکے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست میں 12 افراد کے جاں بحق اور 38 سے زائد کارکنوں کے گولی لگنے سے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نہ پوسٹ مارٹم رپورٹس، نہ ڈیتھ سرٹیفکیٹس اور نہ ہی زخمیوں کی میڈیکل رپورٹس عدالت میں پیش کی گئیں۔

عدالت نے یہ بھی آبزرویشن دی کہ اگر شکایت کنندگان کے مطابق ریاستی ادارے یا اسپتال تعاون نہیں کر رہے تھے تو قانون انہیں مجسٹریٹ عدالت سے رجوع کرکے قبر کشائی اور اموات کی اصل وجوہات معلوم کرنے کی کارروائی کی درخواست دینے کا حق دیتا تھا، لیکن طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ایسا کوئی قانونی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ افضل مجوکا نے تمام دستیاب شواہد، ریکارڈ اور فریقین کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا، جس کے نتیجے میں وزیراعظم شہباز شریف، محسن نقوی، خواجہ آصف اور عطا اللہ تارڑ کو اس مقدمے میں عدالتی ریلیف حاصل ہوگیا۔

Scroll to Top