خیبر پختونخوا میں سیلاب سے بچاؤ کے 16 اہم منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہ ہو سکے، سرکاری دستاویزات سے انکشاف

شیراز احمد شیرازی
خیبر پختونخوا میں سیلاب سے بچاؤ اور اریگیشن کے بنیادی ڈھانچوں کی بحالی کے 16 اہم منصوبے مقررہ ڈیڈ لائنز گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق بیشتر ڈویژنز میں کام سست روی کا شکار ہے جبکہ بعض اضلاع میں پیشرفت صفر یا کام مکمل طور پر معطل ہے۔

دستاویز کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کی سی آر بی سی ڈویژن اریگیشن کے پہلے منصوبے پر صرف 69.47 فیصد اور دوسرے کینال منصوبے پر 69.07 فیصد پیشرفت ہو سکی ہے جبکہ دونوں منصوبوں کی تکمیل کی حتمی تاریخ 9 جنوری 2026 مقرر کی گئی تھی۔ اسی طرح ڈی آئی خان اریگیشن ڈرینز اور ایف سی سی کی بحالی کا منصوبہ، جسے 5 اپریل 2026 تک مکمل ہونا تھا، صرف 81.23 فیصد تک پہنچ سکا ہے۔

دستاویزات کے مطابق دیر اریگیشن ڈویژن میں سیلاب سے بچاؤ کے ڈھانچوں کی بحالی کا منصوبہ بھی تاخیر کا شکار ہے۔ سب سے بدتر صورتحال بنوں اریگیشن ڈویژن میں سامنے آئی ہے جہاں 10 جولائی 2024 کی مقررہ مدت گزرنے کے باوجود منصوبے پر پیشرفت صفر ہے، جبکہ مروت کینال اریگیشن ڈویژن میں بھی سیلاب سے بچاؤ کے منصوبے پر کام مکمل معطل ہے۔

دوسری جانب کچھ منصوبوں میں پیشرفت قدرے بہتر رہی مگر وہ بھی مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو سکے۔ نوشہرہ و پشاور کینال اریگیشن منصوبے پر 93.88 فیصد کام ہو سکا جس کی ڈیڈ لائن 28 مئی 2025 تھی، جبکہ نوشہرہ مردان روڈ پل کے اطراف ڈھانچوں کی بحالی کے منصوبے پر 16 فروری 2026 کی تاریخ گزرنے کے باوجود محض 64.01 فیصد پیشرفت ہو سکی۔

یہ بھی پڑھیں : ہومیو پیتھک احتجاجوں سے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں،مشتاق احمد غنی

اس کے علاوہ مالاکنڈ اریگیشن ڈویژن کا مرمتی منصوبہ (تکمیل 20 دسمبر 2025) 87.60 فیصد، چترال اریگیشن ڈویژن 89.50 فیصد، اور پشاور کینال ڈویژن میں بحالی کا منصوبہ 97.90 فیصد تک پہنچ سکا۔ سوات اریگیشن ڈویژن ون اور ٹو کے دونوں منصوبوں کی تکمیل کی مدت 21 مئی 2025 مقرر تھی، تاہم ڈویژن ون میں 88.22 فیصد اور ڈویژن ٹو میں 90.50 فیصد ہی کام مکمل ہو سکا ہے۔

Scroll to Top