سابق اسپیکر و رکن خیبر پختونخوااسمبلی مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ پریس کلبوں اورہائی کورٹ کے آگے کھڑے ہوجانا یااڈیالہ میں احتجاج سے عمران خان کی رہائی ممکن نہیںبلکہ اس کے لیے ایک باقاعدہ اور ٹھوس منصوبابندی کے تحت تحریک چلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایک ویڈیو بیان میں مشتاق احمد غنی کا کہنا تھا کہ کل بروز اتوارایبٹ آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ بی بی کی آمد کے موقع پر ان کا پرجوش اور والہانہ استقبال کیا جائے گا۔
ایک ویڈیو بیان میں مشتاق احمد غنی کا کہنا تھا کہ علیمہ بی بی عمران خان کی رہائی اور اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں خیبر پختونخوا کا دورہ کر رہی ہیں، جو اتوار کے روز بٹگرام سے ہری پور تک مختلف شہروں میں عوام اور کارکنان سے خطاب کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ فوارہ چوک ایبٹ آباد میں اس استقبالیہ تقریب کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور توقع ہے کہ عوام کا ایک بڑا جم غفیر ان کے استقبال کے لیے جمع ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہزارہ ڈویژن ہمیشہ سے تحریک انصاف کا مضبوط گڑھ رہا ہے اور گزشتہ انتخابات کی طرح آئندہ بھی یہ پی ٹی آئی کا قلعہ ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ پریس کلبوں، ہائی کورٹ یا اڈیالہ کے باہر علامتی احتجاج سے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک باقاعدہ اور ٹھوس منصوبابندی کے تحت تحریک چلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مشتاق احمد غنی نے واضح کیا کہ پارٹی کے تمام عہدیداروں اور اراکین کو جو عزت اور عہدے ملے ہیں وہ عمران خان کی مرہونِ منت ہیں۔ عمران خان کی قیدِ تنہائی، علاج اور ملاقات کی سہولیات کی عدم فراہمی کے پیشِ نظر پارٹی کا فرض ہے کہ وہ ان کی رہائی کے لیے متحرک ہو۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور،پولیس کارروائی کے دوران ساتھی کی فائرنگ سےمطلوب ٹک ٹاکر و منشیات فروش ہلاک
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر اڈیالہ جیل یا ڈی چوک کی طرف مارچ کی کال دی گئی تو ہزارہ کے عوام اور کارکنان علیمہ بی بی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔





