ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار پیشرفت کے باعث یہ ٹیکنالوجی آئندہ 5 برسوں کے اندر تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی۔
ایک انٹرویو کے دوران ایلون مسک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس رفتار سے اے آئی کی صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں، آنے والی ایک دہائی کے دوران انسانوں کے لیے اس ٹیکنالوجی پر اپنا مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی نا صرف ذہانت میں انسان سے آگے نکل جائے گی بلکہ ہر شعبے اور تمام کاموں میں انسانی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ بہتر کارکردگی دکھائے گی۔
ایلون مسک نے خطرات کی نشاندہی کے ساتھ اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اگر اس ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کیا جائے تو یہ بے مثال خوشحالی کے ایک نئے دور کی بنیاد بن سکتی ہے جہاں لوگوں کو غیرمعمولی وسائل میسر ہوں گے اور عالمی تنازعات میں بھی کمی آئے گی۔
ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے انہوں نے تجویز دی کہ بڑی اے آئی کمپنیوں کو محض حکومتی قوانین پر انحصار کرنے کے بجائے آپس میں حفاظتی اور سیکیورٹی امور پر مسلسل تبادلہ خیال کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ ڈویلپرز اپنے اے آئی ماڈلز کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے ایک دوسرے کے سسٹمز کا باریک بینی سے جائزہ لیں تاکہ کسی بھی معکوس اثر یا سنگین خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔





