پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے قائدِاعظم نامی شہری کے قومی شناختی کارڈ کی بندش کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے تمام متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات کے ساتھ نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہو۔
کیس کی سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل پیشے کے اعتبار سے تاجر ہے اور شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث اسے کاروباری سرگرمیوں، بینکنگ معاملات، سرکاری امور اور دیگر ضروری خدمات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نادرا کو شناختی کارڈ بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔
اس موقع پر نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ڈائریکٹر لیگل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کا شناختی کارڈ مشکوک ریکارڈ کی بنیاد پر بلاک کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کویتی وزیر خارجہ دو روزہ سرکاری دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے
ان کا کہنا تھا کہ نادرا کے قواعد و ضوابط کے تحت ایسے معاملات کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست گزار کو نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ تمام دستیاب ریکارڈ اور درخواست گزار کا مؤقف سننے کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔
پشاور ہائیکورٹ نے اس ہدایت کے ساتھ درخواست نمٹا دی اور قرار دیا کہ اگر متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کے بعد بھی ضرورت پیش آئے تو درخواست گزار دوبارہ قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہے۔





