واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہونے والی ہے اور آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں موجودہ سطح سے بھی کم ہو سکتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ خود ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شامل ہیں اور اس حوالے سے بہت اچھی پیش رفت ہو رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران زیادہ دیر تک امریکا کے سامنے نہیں ٹک سکے گا۔ انہوں نے جنگ کے باعث امریکی اسلحے کے ذخائر پر پڑنے والے اثرات کا بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی وجہ سے اسلحے کے ذخائر متاثر ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آج یا کل معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، جس کے تحت 30 سے 60 روز کی جنگ بندی کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دورۂ سعودی عرب، وزیرِ اعظم شہباز شریف مدینہ منورہ پہنچ گئے، ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعائیں
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں جنگ بندی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی شرط بھی شامل ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آئے گی۔
امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے سے عالمی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال میں توانائی کی قیمتوں میں کمی آنی چاہیے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ معاہدہ طے پانے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مزید بات چیت اور معاملات کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔





