اسلام آباد: ایزی پیسہ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے اہم معلومات سامنے آگئی ہیں۔ مختلف مالیاتی اور ڈیجیٹل سروسز استعمال کرتے وقت صارفین کو مقررہ سروس چارجز ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔ ایزی پیسہ کی جانب سے Schedule of Charges کے ذریعے مختلف خدمات کی فیس کی تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کسی بھی لین دین سے قبل متعلقہ سروس کے موجودہ چارجز ضرور چیک کریں۔
ایزی پیسہ کی دستیاب معلومات کے مطابق دوسرے بینک اکاؤنٹ میں Raast کے ذریعے رقم منتقل کرنے پر ٹرانزیکشن کی رقم کے حساب سے مختلف فیس مقرر ہے۔ 1 روپے سے 1,000 روپے تک رقم بھیجنے پر 35 روپے، 1,001 سے 2,500 روپے تک 50 روپے، 2,501 سے 4,000 روپے تک 65 روپے، 4,001 سے 6,000 روپے تک 80 روپے، 6,001 سے 8,000 روپے تک 100 روپے اور 8,001 سے 10,000 روپے تک رقم منتقل کرنے پر 150 روپے سروس فیس درج ہے۔ یہ فیس ٹیکس سمیت بیان کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 9 ہزار روپے ماہانہ دیں اور نئی موٹر سائیکل گھر لے جائیں
اسی طرح 10,001 سے 13,000 روپے تک رقم کی منتقلی پر 200 روپے، 13,001 سے 16,000 روپے تک 250 روپے، 16,001 سے 20,000 روپے تک 300 روپے، 20,001 سے 25,000 روپے تک 350 روپے، 25,001 سے 30,000 روپے تک 400 روپے، 30,001 سے 40,000 روپے تک 450 روپے جبکہ 40,001 سے 50,000 روپے تک رقم بھیجنے پر 500 روپے سروس فیس درج ہے۔
ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے دوسرے ایزی پیسہ اکاؤنٹ پر ٹرانزیکشن
ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے دوسرے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں رقم بھیجنے والوں کے لیے بھی مخصوص چارجز مقرر ہیں۔ دستیاب سرکاری FAQ کے مطابق ایک ماہ میں پہلی پانچ ٹرانزیکشنز مفت ہیں۔
چھٹی سے دسویں ٹرانزیکشن پر رقم کا ایک فیصد، ٹیکس سمیت چارج کیا جاتا ہے، جبکہ 11ویں اور اس کے بعد ہونے والی ٹرانزیکشنز پر دو فیصد، ٹیکس سمیت فیس عائد ہوتی ہے۔
مثلاً مفت پانچ ٹرانزیکشنز مکمل ہونے کے بعد اگر کوئی صارف 10 ہزار روپے کی چھٹی سے دسویں ٹرانزیکشن کے دوران رقم بھیجتا ہے تو ایک فیصد کے حساب سے 100 روپے چارج بنتا ہے۔ اسی طرح 11ویں یا اس کے بعد 10 ہزار روپے کی ٹرانزیکشن پر دو فیصد کے حساب سے تقریباً 200 روپے فیس بن سکتی ہے۔
CNIC کے ذریعے رقم بھیجنے پر کتنی فیس ہوگی؟
ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے CNIC کے ذریعے رقم بھیجنے پر بھی رقم کے حساب سے مختلف فیسیں مقرر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بہت ہی کم قیمت میں لگژری گاڑی؟ ہنڈائی نے بڑا اعلان کردیا
دستیاب معلومات کے مطابق 1 سے 1,000 روپے تک رقم بھیجنے پر 35 روپے، 1,001 سے 2,500 روپے تک 50 روپے، 2,501 سے 4,000 روپے تک 65 روپے، 4,001 سے 6,000 روپے تک 80 روپے، 6,001 سے 8,000 روپے تک 100 روپے اور 8,001 سے 10,000 روپے تک 150 روپے فیس درج ہے۔
اسی شیڈول کے مطابق 10,001 سے 13,000 روپے تک CNIC ٹرانسفر پر 200 روپے، 13,001 سے 16,000 روپے تک 250 روپے، 16,001 سے 20,000 روپے تک 300 روپے، 20,001 سے 25,000 روپے تک 350 روپے، 25,001 سے 30,000 روپے تک 400 روپے، 30,001 سے 40,000 روپے تک 450 روپے جبکہ 40,001 سے 50,000 روپے تک رقم بھیجنے پر 500 روپے سروس فیس درج ہے۔
عام ٹرانزیکشنز میں بھی فرق ہوسکتا ہے
ایزی پیسہ کے مطابق زیادہ تر عام ٹرانزیکشنز مفت بھی ہوسکتی ہیں، تاہم بعض مخصوص خدمات پر فیس عائد ہوتی ہے۔ کمپنی کے FAQ کے مطابق چارجز میں ہر تین ماہ بعد نظرثانی کی جاتی ہے، اس لیے صارفین کو تازہ ترین Schedule of Charges ضرور دیکھنا چاہیے۔
کیش نکلوانے پر بھی چارجز
کیش نکلوانے کے حوالے سے بھی صارفین کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ایزی پیسہ کے FAQ میں موبائل اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے پر ٹرانزیکشن رقم کا 1.75 فیصد، ٹیکس سمیت، چارج درج کیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر 10 ہزار روپے کیش نکلوانے پر 1.75 فیصد کے حساب سے تقریباً 175 روپے چارج بنتا ہے، جبکہ 20 ہزار روپے نکلوانے پر یہ چارج تقریباً 350 روپے ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سوات میں سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پر پولیس کا فوری ایکشن، باپ سمیت 5 افراد گرفتار
دوسری جانب ایزی پیسہ ATM کارڈ استعمال کرنے پر ماہانہ یا سالانہ فیس نہ ہونے کی بات بھی درج ہے۔
صارفین کے لیے اہم احتیاط
صارفین کے لیے اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی سروس کو استعمال کرنے سے پہلے اس کی موجودہ فیس ضرور چیک کی جائے، کیونکہ ایزی پیسہ کے مطابق چارجز میں سہ ماہی بنیاد پر نظرثانی ہوسکتی ہے۔ کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ پر Schedule of Charges کا باقاعدہ سیکشن موجود ہے، جہاں برانچ لیس بینکنگ اور ریٹیل بینکنگ کے چارجز الگ الگ فراہم کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل والٹ استعمال کرنے والے صارفین کو صرف منتقل کی جانے والی رقم نہیں بلکہ سروس فیس اور ٹیکس سمیت مجموعی لاگت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ خاص طور پر بار بار رقم منتقل کرنے والے صارفین کے لیے معمولی فیس بھی مہینے کے اختتام پر قابلِ ذکر رقم بن سکتی ہے۔
صارفین کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ ہر ٹرانزیکشن کے بعد رسید یا SMS محفوظ رکھیں، کسی غیر متعلقہ شخص کو OTP، PIN یا MPIN فراہم نہ کریں اور کسی مشکوک ٹرانزیکشن کی صورت میں فوری طور پر ایزی پیسہ کی آفیشل ہیلپ لائن یا شکایتی نظام سے رابطہ کریں۔
یوں ایزی پیسہ استعمال کرنے والوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ رقم بھیجنے، CNIC ٹرانسفر، بینک ٹرانسفر یا کیش نکلوانے سے پہلے متعلقہ سروس کا تازہ چارج ضرور چیک کیا جائے تاکہ ٹرانزیکشن کے وقت اضافی رقم کٹنے پر حیرانی نہ ہو۔





