سم فراڈ سے ہوشیار: پی ٹی اے نے صارفین کے لیے اہم ہدایات جاری کر دیں

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر کے شہریوں کو سم کارڈز کے نام پر ہونے والے آن لائن فراڈ اور بائیومیٹرک معلومات کے غلط استعمال سے محتاط رہنے کی شدید ہدایت جاری کی ہے جبکہ دوسری جانب ملک میں ای سم (eSIM) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے فیسوں میں کمی اور نئی سہولیات کا اعلان بھی کیا ہے۔

پی ٹی اے کے ترجمان کے مطابق، جعلساز اکثر مفت منٹس، انٹرنیٹ ڈیٹا یا بیلنس کی ترغیب دے کر شہریوں سے سم کارڈ حاصل کرنے یا ان کی حساس بائیومیٹرک معلومات کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اتھارٹی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ نیا کنکشن یا سم صرف موبائل کمپنیوں کے مجاز فرنچائزز یا کسٹمر سروس سینٹرز ہی سے حاصل کریں۔ بائیومیٹرک تصدیق کے وقت اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صارف کی موجودگی میں ہی وہی سم فعال کی گئی ہے جو انہوں نے خریدی ہے۔

علاوہ ازیں، پی ٹی اے نے جدید ٹیکنالوجی ای سم (eSIM) کی منتقلی اور اجرا کے حوالے سے بھی بڑا فیصلہ کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت نئی ای سم کے اجرا اور روایتی فزیکل سم کو ای سم میں تبدیل کرنے کی زیادہ سے زیادہ فیس 1500 روپےمقرر کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق پورے پاکستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں یکساں طور پر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور میں 14 اگست پر باجوں، کھلونا پستولوں اور پٹاخوں کی خرید و فروخت پر پابندی

صارفین کی سہولت کے لیے پی ٹی اے نے ای سم پروفائل کی ایک سے دوسری موبائل ڈیوائس میں مفت منتقلی کی حد میں بھی اضافہ کر دیا ہے، جس کے تحت صارفین اب 10 مرتبہ اپنی ای سم پروفائل بلا معاوضہ منتقل کر سکیں گے۔ ان تمام اقدامات اور نظرثانی شدہ فیسوں کا باضابطہ نفاذ 17 اگست 2026سے ہوگا۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد جدید ٹیلی کام ٹیکنالوجی کو عام بنانا اور صارفین کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

Scroll to Top