سعودی حکام نے مسجد الحرام میں عمرہ زائرین کی سہولت اور ہجوم سے بچاؤ کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے زائرین کو کم رش کے اوقات میں طواف، سعی اور دیگر عبادات کی منصوبہ بندی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
سعودی جنرل اتھارٹی کے مطابق مسجد الحرام میں رش کی صورتحال دن کے مختلف اوقات میں تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لیے زائرین مناسک کی ادائیگی کے لیے پہلے سے مناسب وقت کا انتخاب کریں تاکہ مطاف اور مسعی میں آمدورفت آسان رہے۔
اتھارٹی نے بتایا کہ مسجد الحرام میں رات 10 بجے سے صبح 4 بجے تک جبکہ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک رش نسبتاً کم رہتا ہے۔ صبح 5 بجے سے 8 بجے تک رش درمیانے درجے کا ہوتا ہے، جبکہ شام 5 بجے سے رات 9 بجے تک مسجد الحرام میں رش کی شدت سب سے زیادہ رہتی ہے۔
سعودی حکام نے عمرہ زائرین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہجوم سے بچنے کے لیے اپنے عبادتی اوقات کی پیشگی منصوبہ بندی کریں اور مسجد الحرام میں دستیاب ڈیجیٹل سہولیات سمیت لائیو رش کی صورتحال سے بھی استفادہ کریں۔
حکام کے مطابق طواف اور سعی کے لیے مناسب اوقات کا انتخاب نہ صرف ہجوم کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ زائرین کے لیے مسجد الحرام میں آمدورفت بھی آسان بنائے گا اور وہ زیادہ سہولت کے ساتھ اپنے مناسک ادا کرسکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ عمرہ سیزن کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ کے دوران 9 لاکھ 20 ہزار 500 عمرہ زائرین سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، جبکہ گزشتہ ماہ جاری اعدادوشمار میں عمرہ ویزے پر مملکت آنے والے افراد کی تعداد میں 22.5 فیصد اضافے کی نشاندہی کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا بڑا اقدام، زائرین کےلیے ایک سال کا ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا متعارف
زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سعودی حکام کی جانب سے پیشگی منصوبہ بندی پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مسجد الحرام میں ہجوم کو بہتر انداز میں منظم کرنے کے ساتھ ساتھ عبادت اور آمدورفت کے لیے زیادہ سازگار ماحول فراہم کیا جاسکے۔





