رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پاکستان تحریک انصاف میں تین گروپوں کا انکشاف کیا ہے۔
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مشال یوسفزئی کے حوالے سے غصے کی بنیادی وجہ ان کا بشریٰ بی بی سے تعلق ہے، جبکہ کوشش کی گئی کہ انہیں سینیٹ کا ٹکٹ نہ ملے، تاہم بانی پی ٹی آئی نے مشال یوسفزئی کو ٹکٹ دینے کی ہدایت کی تھی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ اور جنید اکبر نے مشال یوسفزئی پر تنقید کرنے کا مؤقف اپنایا تھا۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ مشال یوسفزئی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے ان سے بانی کے سامنے معذرت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔
شیر افضل مروت کے مطابق خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی تین گروپس میں تقسیم ہے، جن میں ایک سہیل آفریدی، دوسرا 40 سے 45 ارکان اسمبلی اور تیسرا علی امین گنڈاپور کا گروپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی اختلافات دشمنیوں میں تبدیل ہوچکے ہیں، اس لیے مارچ کا اعلان اختلافات ختم کرنے کے بعد ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج کا وقت ضائع کرچکی، لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگایا جائے، شیر افضل مروت
انہوں نے دعویٰ کیا کہ علی امین نے پارٹی کو 72 کروڑ روپے دیے، تاہم رقم کے استعمال سے متعلق جواب پارٹی سیکریٹری جنرل کو دینا چاہیے۔ شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کا مارچ نہیں ہوگا کیونکہ اس کی کوئی تیاری نہیں۔





