پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے دونوں اعلیٰ حکام کو تین روز کے اندر جواب جمع کرانے اور 21 اگست کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور کے روبرو ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل بشیر وزیر ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے 24 جولائی کو تحریری حکم نامے کے ذریعے مینا خان آفریدی کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا واضح حکم دیا تھا۔ اس کے باوجود ڈائریکٹر ایف آئی اے پشاور ریجن اور اسلام آباد کو خطوط بھیجے گئے لیکن ان احکامات پر تاحال کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے 18 اگست 2026ء کو ایک اہم سرکاری دورے پر برطانیہ روانہ ہونا ہے، جہاں انہیں آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہو چکا ہے اور انہوں نے سفری ٹکٹ بھی حاصل کر لیا ہے۔
سماعت کے دوران جب عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے نام کی موجودگی کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے جواب کے لیے کچھ وقت مانگا۔ بعد ازاں اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن نے عدالت میں پیش ہو کر تصدیق کی کہ مینا خان آفریدی کا نام اب بھی متعلقہ لسٹ میں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی قتل کیس میں بڑی پیش رفت
اس پر عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ فریقین کی جانب سے عدالتی احکامات کی بار بار خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 دن میں جواب طلب کر لیا اور 21 اگست کو ذاتی پیشی کا حکم سنادیا۔





