سینئر صحافی عبداللہ جان نے انکشاف کیا ہے کہ ضلع لکی مروت میں معطل کانسٹیبل خالد خان کی سربراہی میں قائم نام نہاد “پولیس امن کمیٹی” اور 82 معطل اہلکاروں کا بے لگام نیٹ ورک علاقے کے امن و امان اور پولیس انتظامیہ کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
صحافی عبداللہ جان نے اپنے تازہ تجزیے میں علاقے کی نازک صورتحال اور معطل نیٹ ورک کی مجرمانہ و غیر قانونی سرگرمیوں کا تفصیلی پردہ فاش کیا ہے۔
ان کے مطابق حال ہی میں جب سکیورٹی فورسز خوارج کے قبضے سے ایک اہلکار کو باحفاظت بازیاب کرا کے لوٹ رہی تھیں تو معطل کانسٹیبل اور اس کے گروہ نے سیکیورٹی فورسز کے خلاف شدید شور شرابا کیا اور نازیبا رویہ اختیار کیا۔ اس کے علاوہ 8 اگست کو سرائے نورنگ میں پاک فوج کی جانب سے قائم کردہ مفت طبی کیمپ میں بھی اس گروہ نے غنڈہ گردی کی۔ کیمپ میں آنے والے غریب اور مستحق شہریوں کو علاج کی سہولت سے محروم رکھنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں اور دھکم پیل کی گئی۔
صحافی عبداللہ جان نے انکشاف کیا ہے کہ معطل کانسٹیبل خالد خان خود کو علاقے کا اصل ڈی پی او ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے آئی جی خیبر پختونخوا اور ڈی پی او لکی مروت کے قانونی احکامات کو ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
یہ معطل نیٹ ورک مقامی سطح پر ایس ایچ اوز، ڈی ایس پیز اور اسلحہ خانے کے انچارج کی تعیناتیوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے جس سے محکمے کا انتظامی ڈھانچہ فالج کا شکار ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا اہم فیصلہ، شفیع جان کو سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اضافی قلمدان
صحافی کے مطابق نام نہاد امن کمیٹی کے نام پر یہ گروہ بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور عام شہریوں کو ہراساں کرنے میں ملوث ہے۔ یہی نہیںبلکہ اس نیٹ ورک پر خوارج کی درپردہ معاونت کے بھی شدید الزامات ہیں جس کے باعث علاقے میں سیکیورٹی اداروں اور عوام کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔





