اسلام آباد: پمزہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں نومولود بچوں کی اموات پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایت کردی۔ وزیراعظم نے کہا کہ واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، غفلت کے ذمہ داران کا تعین کرکے حقائق سامنے لائے جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نومولود بچوں کے ساتھ پیش آنے والی یہ صورتحال ناقابلِ تلافی ہے، واقعے پر دل رنجیدہ ہے اور وہ متاثرہ والدین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
🚨🚨اسلام آباد: پمز ہسپتال کی نرسری میں صبح سویرے آگ بھڑک اٹھی، 15 بچے جاں بحق، ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے سے افسوسناک واقعہ پیش آیا، ریسکیو آپریشن جاری pic.twitter.com/8BH2TxrN9K
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) August 26, 2026
دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی پمز ہسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ نومولود بچوں کی المناک اموات انتہائی دلخراش اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اللہ تعالیٰ جاں بحق بچوں کے درجات بلند فرمائے۔
یہ بھی پڑھیں : پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ کی نرسری میں آگ، 15 نومولود جاں بحق
صدرِ مملکت نے واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے ہسپتالوں میں مریضوں، خصوصاً نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر فائر سیفٹی اور ہنگامی انتظامات یقینی بنانے پر زور دیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کی نرسری میں آگ ایئرکنڈیشن کے کمپریسر پھٹنے کے باعث لگی۔ ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے اور نرسری سے بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائی کی۔
ہسپتال کی دستاویز کے مطابق نرسری میں 14 نومولود بچے زیرِ علاج یا داخل تھے، جبکہ 15ویں بچے کو ریسکیو کرلیا گیا۔ تاہم ہسپتال ذرائع کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود جاں بحق ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : طبی معائنے کے دوران شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے دو ماہر ڈاکٹروں نے عمران خان نیازی کی آنکھوں کے معائنے میں حصہ لیا، پمز انتظامیہ
ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ نرسری میں موجود بچوں میں سے صرف ایک بچے کو لیڈی ڈاکٹر نے بچایا۔
دستیاب اسپتال ریکارڈ کے مطابق متاثرہ نومولود بچوں میں جویریہ کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ، جس کے والد سمیع اللہ ہیں؛ عالیہ کا بچہ، والد راشد؛ انیسہ کا بچہ، والد عبداللہ؛ آسیہ بی بی کے جڑواں بچے، والد بہادر؛ شکیلہ کا بچہ، والد محمد تنویر؛ سدرہ کا بچہ، والد عمران؛ سنبل کا بچہ، والد عثمان؛ کرن فاطمہ کا بچہ، والد محمد سعد الرحمٰن؛ آمنہ کا بچہ، والد خرم؛ ماریہ کا بچہ، والد قیوم؛ خضرہ کا بچہ، والد مدثر؛ حفصہ کا بچہ، والد اشتیاق، جو ایم ایل سی کیس تھا؛ اور عروسہ سعید کا بچہ، والد عدریس خان شامل ہیں۔
ریکارڈ میں آصفہ کے نومولود بچے کا بھی ذکر ہے، جس کے والد وقاص ہیں اور جسے ریسکیو کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔
واقعے کی اصل وجوہات، ذمہ داروں کا تعین اور آتشزدگی میں ہونے والے جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گی۔





