اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے کے وقت آئی سی یو میں 2 ڈاکٹرز، 4 نرسز اور دیگر عملہ موجود تھا، جبکہ ایک ڈاکٹر نے ایک نومولود کی جان بھی بچائی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران نے کہا کہ اسپتال میں تسلی بخش فائر سیفٹی سسٹم موجود ہے، تاہم واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور جو بھی قصوروار پایا گیا اسے سزا دی جائے گی۔
رانا عمران کے مطابق نرسری میں 24 آکسیجن سلنڈر موجود تھے اور ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں کے دوران کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں بچوں کے چوری ہونے کے واقعات کے باعث اسپتال میں داخلہ محدود رکھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : پمز ہسپتال سانحہ: وزیراعظم اور صدر کا اظہارِ افسوس، فوری تحقیقات کا حکم
واضح رہے کہ اسلام آباد کے پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں صبح تقریباً 7 بجے آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق نرسری میں آگ ایئرکنڈیشن کے کمپریسر پھٹنے کے باعث لگی۔ آتشزدگی گائنی وارڈ کی ایم سی ایچ وارڈ کے تیسرے فلور پر واقع نرسری میں ہوئی۔
فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔ واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔





