وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم سب نبی کریم ﷺ کی رحمت کے سائے میں ایک ملت ہیں اور علمائے کرام ہماری اخلاقی اقدار کے پاسبان ہیں۔
اسلام آباد میں قومی سیرت النبیﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نئی نسل پاکستان کی امید اور مستقبل ہے۔ نئی نسل کی تعلیم و تربیت ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔ ہم جیسی نسل تیار کریں گے مستقبل بھی ویسا ہی ہو گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سیرت طیبہ اخلاق و کردار کا کامل ترین نمونہ ہے۔ صلح حدیبیہ عقل، حکمت اور دوراندیشی کا درس دیتی ہے۔ طائف کا واقعہ صبر اور برداشت کی عظیم مثال ہے۔ نبی کریمﷺ نے مہاجرین اور انصار میں بھائی چارہ قائم کیا۔
سیرت النبیﷺ سے متعلق مزید گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محبت، بھائی چارہ اور احساس مشکلات کا حل ہے۔ نبی کریمﷺ نے اختلاف کے آداب اور مکالمے کا طریقہ سکھایا۔ فتح مکہ پر نبی کریمﷺ نے مخالفین کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔
متعلق شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے مسلمانوں کے اتحاد اور جنگ بندی کے لیے مخلصانہ کوششیں کیں اوفیلڈ مارشل سید عاصم منیرکو امن کیلئے خدمات پر دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوںانہوں نے خطے میں جنگ بندی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ امن دشمن عناصر مسلم ممالک میں نفرت پیدا کرنے میں ناکام رہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات قابل تحسین ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان کا رشتہ ازل سے قائم ہے اور تاقیامت تک مضبوط رہے گا۔ ترکیہ اور سعودی عرب نے ہرمشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
یہ بھی پڑھیں : پمز سانحہ:14 معصوم بچوں کے ضیاع پر کوئی عذر یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی: وزیراعظم شہباز شریف
ملک میں امن و امان سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وحدت، اتحاد اور یکجہتی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، علما فتنہ پرور اور مفاد پرست عناصر سے قوم کو بچانے میں کردار ادا کریں۔ اور اختلاف نفرت کا ذریعہ نہیں بننا چاہیئے۔ نئی نسل کو درپیش فکری چیلنجز پر توجہ دینا ہو گی۔





