پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے ہولناک واقعے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پی پی پی رہنماؤں نے اس المناک سانحے کو وفاقی نظام صحت کی سنگین ناکامی اور انتظامی غفلت قرار دیتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔
پمز ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے بتایا کہ حادثے کے وقت فائر ٹینکس میں پانی موجود نہیں تھا، ڈاکٹرز غائب تھے اور گیٹ بھی بند پڑے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ یہاں سیاست کرنے نہیں آئے لیکن بطور اپوزیشن ذمہ داری ہے کہ واقعے پر سوال اٹھائے جائیں، لہٰذا ذمہ دار وفاقی وزیر کو خود اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نیئر بخاری نے موقف اپنایا کہ صرف ایک سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دینا کافی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزارت صحت سے محض دو ہسپتال نہیں سنبھالے جا رہے تو وہ پورے ملک کا نظام صحت کیسے چلائیں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزارت صحت کو جواب دہ ہونا پڑے گا کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا اور انتظامیہ کی نگرانی کیوں نہیں کی گئی۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پمز ہسپتال میں 15 معصوم بچوں کی اموات محض کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ یہ وفاقی نظام صحت کی سنگین ناکامی اور بدترین غفلت کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت کو اس انتظامی ناکامی کی تمام تر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے۔





