سینئر تجزیہ کار عقیل یوسفزئی نے انکشاف کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے افغان طالبان کے سپریم لیڈر شیخ ہبت اللہ اخوندزادہ سے فون پر بات چیت کے دوران کہا تھا کہ انہیں پاکستانی مفادات سے زیادہ افغان طالبان اور افغان رجیم کے مفادات عزیز ہیں۔
سینئر صحافی عرفان خان کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئےعقیل یوسفزئی کا کہنا تھاکہ اس بیان کا متعلقہ اداروں نے شدید نوٹس لیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ نے مولانا فضل الرحمان پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا اچھی طرح جانتا ہے۔
عقیل یوسفزئی نے کہا کہ ایک پاکستانی سیاست دان اور سینئر اسٹیک ہولڈر کی طرف سے اس قسم کا بیان کسی صورت قابلِ برداشت نہیں تھا۔ انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے آن ریکارڈ بیانیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عسکری قیادت پہلے ہی یہ واضح لکیر کھینچ چکی ہے کہ ایک بھی پاکستانی کی جان کے بدلے ہزاروں افغانیوں کی جانیں بھی کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ اس تمام معاملے میں اور 2021ء کے بعد سے ہزاروں پاکستانیوں کو شہید کرنے والے عناصر کو سیاسی جواز دینے کے باعث مولانا فضل الرحمان شدید تنقید کی زد میں آ کر سیاسی طور پر پھنس چکے ہیں۔
تجزیہ کار نے مزید انکشاف کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تین سابق امراء ماضی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے عہدے دار یا کارکن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی اور اس کی سرپرستی صرف طالبان یا ٹی ٹی پی تک محدود نہیں ہےبلکہ دنیا کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ اس میں انڈیا اور اسرائیل جیسے پاکستان مخالف ممالک بھی ملوث ہیں۔
عقیل یوسفزئی کے مطابق ان سنگین حالات میں اگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور سیکیورٹی ادارے سخت جوابی اقدام (کاؤنٹر اٹیک) کرتے ہیں تو وہ مکمل طور پر حق بجانب ہوں گے۔





