نوجوانوں میں ڈپریشن کی بڑی وجہ دریافت

امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں اور بالغ افراد میں ڈپریشن کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے۔

سنسیناٹی یونیورسٹی کے محققین کے مطابق روزانہ ڈھائی گھنٹے سے زیادہ وقت سوشل میڈیا پر اسکرولنگ، ٹیلی ویژن دیکھنے یا ویب سرفنگ میں گزارنا اور ڈپریشن سے متاثر ہونے کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔

تحقیق کے دوران 18 سے 70 سال کے ایک لاکھ 83 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا اور 1300 سے زائد سوالات کے جوابات کا مشین لرننگ ماڈل کے ذریعے تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد روزانہ ڈھائی گھنٹے سے زائد وقت سوشل میڈیا کو دیتے ہیں ان میں ڈپریشن کی علامات کہیں زیادہ رپورٹ ہوتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اب لوگ اپنوں کے بجائے اجنبیوں کا مواد زیادہ دیکھتے ہیں جو ایک لت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ڈپریشن نہ صرف انسان کے جذبات اور ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ جسمانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگر اداسی اور بے بسی کا احساس دو ہفتوں سے زائد عرصے تک برقرار رہے تو یہ ایک سنگین ذہنی عارضے کی نشان دہی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 10 روپے کا نوٹ کیوں بند کیا جا رہا ہے؟ حیران کن وجہ سامنے آ گئی

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ چونکہ سوشل میڈیا کو مکمل طور پر ترک کرنا اب ممکن نہیں رہا اس لیے اس کا محتاط اور محدود استعمال ہی ڈپریشن سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔

Scroll to Top