خیبرپختونخوا میں تعلیمی ایمرجنسی یا صرف دعوے؟ محکمہ تعلیم کی رپورٹ نے پول کھول دیا

خیبرپختونخوا میں 627 سرکاری اسکول غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ 226 سرکاری اسکولوں میں اساتذہ تک موجود نہیں ہیں۔

محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کی سالانہ اسکول سنسز رپورٹ سامنے آگئی، جس کے مطابق صوبے کے 627 سرکاری اسکول مختلف وجوہات کی بنا پر غیر فعال ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ غیر فعال سرکاری اسکول ضم شدہ اضلاع میں ہیں، جہاں 411 اسکول بند یا غیر فعال ہیں، جبکہ بندوبستی اضلاع میں 216 سرکاری اسکول غیر فعال پائے گئے۔

محکمہ تعلیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 226 سرکاری اسکول صرف اساتذہ کی عدم دستیابی کے باعث غیر فعال ہیں، جبکہ 66 اسکولوں میں طلبہ نہ ہونے کے باعث تدریسی سرگرمیاں جاری نہیں۔ 28 سرکاری اسکول تنازعات کے باعث غیر فعال ہیں، جبکہ 11 اسکولوں پر غیر قانونی قبضے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق شمالی وزیرستان 111 غیر فعال اسکولوں کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ جنوبی وزیرستان اپر میں 99 اور اپر کوہستان میں 68 سرکاری اسکول غیر فعال ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کرم میں 53، ایس ڈی وزیر بنوں میں 45، بنوں میں 44، لوئر کوہستان میں 29 اور خیبر میں 27 سرکاری اسکول غیر فعال ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہارورڈ بزنس اسکول کے طلبہ کے وفد کی ملاقات، علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال

اسی طرح ہنگو میں 16، بٹگرام میں 13، مانسہرہ میں 7، ٹانک میں 6، پشاور میں 5، چارسدہ اور سوات میں 4، شانگلہ میں 3 جبکہ لکی مروت اور نوشہرہ میں 2، 2 سرکاری اسکول غیر فعال ہیں۔

محکمہ تعلیم کی سالانہ سنسز رپورٹ کے مطابق مردان، کرک، کوہاٹ اور صوابی میں ایک، ایک سرکاری اسکول غیر فعال پایا گیا ہے۔

Scroll to Top