جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کے حالیہ فوج مخالف بیانات، افغان پالیسی اور احتجاجی موقف کے حوالے سے اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع کے شہریوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اسلام آباد، چار سدہ، کالام اور ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام نے ملکی سلامتی، انتشار کی سیاست اور افغان طالبان کی حمایت پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد کے شہریوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فضل الرحمان کی افغانستان یا دیگر ممالک سے دوستی اپنی جگہ لیکن پاکستان میں انتشار پھیلانا بند کیا جائے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ ملک میں جب بھی انتشار کی سیاست ہوتی ہے تو اس کے پیچھے فضل الرحمان کا ہاتھ نظر آتا ہے جو مدرسے کے طلباء کو لا کر سڑکیں بند کر دیتے ہیں۔
شہریوں نے سوال اٹھایا کہ فضل الرحمان کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا مخالفین کے ساتھ، کیونکہ بیرونی میڈیا پر ان کے پاکستان مخالف بیانات نشر کیے جا رہے ہیں۔
چار سدہ کے رہائشیوں نے خطے میں بجلی و گیس کی عدم فراہمی اور بدترین مہنگائی کا گلہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ فضل الرحمان افغان طالبان کی حمایت اور احتجاج کی باتیں کر رہے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ طالبان کے معاملے کو چھوڑ کر فضل الرحمان اپنے ملک اور عوام کے مسائل کے حل پر توجہ دیں۔
سوات کے علاقے کلام سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے دفاعی اداروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ملک کی حفاظت کی خاطر بے شمار جانیں نچھاور کی ہیں۔ ایک سینئر سیاستدان اور عالم دین ہونے کے ناطے فضل الرحمان کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جس سے دشمن کے موقف کو تقویت ملے، اور انہیں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے باشندوں کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کی اپنی جگہ اہمیت ہے لیکن وطن کی سلامتی کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فضل الرحمان افغانستان یا بیرونی مفادات کے بجائے پاکستان کی تعمیر، ترقی اور دفاعی استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔





