پاکستان نے قرضوں کے مؤثر انتظام کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے 1200 ارب روپے کا قرض مقررہ مدت سے کافی پہلے ادا کر دیا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی واحد قبل از وقت قرض ادائیگی ہے۔
اس ادائیگی کے بعد مقررہ مدت سے پہلے واپس کیے جانے والے قرضوں کا مجموعی حجم تقریباً 6000 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران 1800 ارب روپے کا قرض قبل از وقت ادا کیا گیا، جبکہ مالی سال 2025-26 میں مزید 2900 ارب روپے کی پیشگی ادائیگی کی گئی۔
سالانہ بنیاد پر قبل از وقت قرض کی واپسی میں 62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مالی سال 2026-27 کے دوران اب تک مزید 1200 ارب روپے کا قرض مقررہ وقت سے پہلے ادا کیا جا چکا ہے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ قبل از وقت قرضوں کی ادائیگی فعال قرض مینجمنٹ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سٹیٹ بینک کے اثاثے 30 جون تک کتنے رہے؟ نوٹوں کی چھپائی پرکتنے ارب روپے خرچ ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
اس سے مستقبل میں قرضوں اور ان کی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوگا، سرکاری مالیات مزید مستحکم ہوں گے اور معیشت کے لیے اضافی مالی گنجائش پیدا ہوگی





