ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے دوسری مدتِ صدارت کے دوران ایک اہم سیاسی اور عسکری چیلنج بن گئی ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنگ کو چھ ماہ گزرنے کے باوجود اس کے خاتمے کے واضح آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی حکومت اب بھی برقرار ہے جبکہ **آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند** ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی اور عالمی سطح پر اس کے اثرات برقرار ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق ایران جنگ کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اندرونِ ملک سیاسی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی پوزیشن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ طویل جنگ کے نتیجے میں امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھا ہے اور بعض اہم عسکری وسائل میں کمی واقع ہوئی ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابتدا میں ایران کے خلاف جنگ کو مختصر قرار دیا تھا، تاہم جنگ کے طول پکڑنے سے صورتحال مختلف ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ نہیں چاہتا، ہر جارحیت کے خلاف پوری قوت سے کھڑا ہوگا، صدر مسعود پزشکیان
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت مزاحمت جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ ایران نسبتاً کم ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے بھی امریکی فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتا ہے۔





