پشاور ہائیکورٹ نے مطلوب اشتہاری ملزم ممتاز عرف ممتازے کی لاش اصل ورثا کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
درخواست گزر والدہ نے موقف اپنایا تھا کہ پولیس نے بیٹے کو ہلاک کرنے کے بعد لاش حوالے نہیں کی، لہٰذا تدفین کے لیے لاش والدہ اور بھائی کے سپرد کی جائے اور قبر کھودنے میں بھی کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی نے لاش کی موجودگی اور تحویل سے متعلق استفسار کیا۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عبدالرؤف نے عدالت کو بتایا کہ لاش اسپتال میں ہے اور پولیس قانون کے مطابق اسے اصل ورثا کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔
عدالت نے اسپتال انتظامیہ کو لاش کی ویڈیو ریکارڈنگ کرنے کی ہدایت کی اور تدفین میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے لاش ورثا کے سپرد کرنے کا فیصلہ سنایا۔





