امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر طاقتور حملے شروع کر دیے ہیں اور تہران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جوابی اقدام پر اسے مزید شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ عسکری کارروائی آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی ایرانی کوششوں اور اردن میں امریکی فوجی اڈے پر آٹھ میزائل داغے جانے کے ردعمل میں کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے میں نصب کی جانے والی بارودی سرنگوں کو کامیابی سے ہٹا یا ناکارہ بنا دیا گیا ہے، جبکہ اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھوں میزائلوں کو امریکی اور اردنی فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ہوا ہی میں تباہ کر دیا، جس کی تصدیق اردنی فوج نے بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے وینزویلا کے ساتھ سب سے بڑے تاریخی معاہدے کا اعلان کردیا
امریکی صدر نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے اس کارروائی کا جواب دینے کی کوشش کی تو واشنگٹن کی طرف سے اس سے کہیں زیادہ بڑا اور تباہ کن حملہ کیا جائے گا جس کے بعد ایران کے پاس بچانے کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔





