پشاور: خیبرپختونخوا میں امن و امان، مہنگائی، روزگار اور بنیادی سہولیات سے متعلق عوامی مسائل کے درمیان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سندھ میں سیاسی سرگرمیوں نے صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت 3 سے 7 ستمبر تک سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں مختلف شہروں کا دورہ کر رہی ہے۔ پروگرام کے مطابق مہم کا آغاز کامو شہید، گھوٹکی سے ہوا، جبکہ جیکب آباد، شکارپور، شہدادکوٹ، قمبر، لاڑکانہ، نوشہرو فیروز، نواب شاہ، میرپورخاص، عمرکوٹ، حیدرآباد اور کراچی سمیت مختلف مقامات پر عوامی اجتماعات اور سیاسی سرگرمیاں شیڈول ہیں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے اپنے بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے صوبے کی مجموعی آمدن کا تخمینہ 2.122 ٹریلین روپے، مجموعی اخراجات 2.17 ٹریلین روپے جبکہ صوبائی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کا تخمینہ 182.4 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ صوبائی ٹیکس آمدن کا تخمینہ 115.9 ارب روپے ہے۔
ایسے میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب صوبہ خود مالی دباؤ، امن و امان اور بنیادی سہولیات کے مسائل سے دوچار ہے تو وزیراعلیٰ کی اتنی بڑی سیاسی سرگرمیوں اور بین الصوبائی دوروں کے اخراجات کس ذریعے سے پورے کیے جا رہے ہیں؟
عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ کیا وزیراعلیٰ اور پارٹی قیادت کے سندھ کے سیاسی دورے، سیکیورٹی انتظامات، پروٹوکول اور دیگر اخراجات پارٹی وسائل سے ادا کیے جا رہے ہیں یا ان میں کسی قسم کے سرکاری وسائل استعمال ہو رہے ہیں؟ اس حوالے سے واضح اور شفاف تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔
امن و امان کے لیے خطیر رقم، ترجیحات پر سوال
خیبرپختونخوا کے 2026-27 کے بجٹ میں پولیس کے لیے تقریباً 191.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے تقریباً 199.1 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ صحت کے لیے 334 ارب روپے اور تعلیم کے لیے 468 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
صوبے میں بدامنی کے باعث سیکیورٹی اداروں پر دباؤ برقرار ہے، ایسے میں سیاسی سرگرمیوں اور حکومتی ترجیحات کے درمیان توازن کا سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
خصوصاً ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی ضروریات، صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور بنیادی سہولیات کے مسائل کے باعث عوام کی نظریں صوبائی حکومت پر ہیں۔ سرکاری بجٹ دستاویز کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص رقم گزشتہ تخمینے کے مقابلے میں کم ہو کر 199.1 ارب روپے رہ گئی ہے۔
ٹیکس ریونیو اور سرکاری وسائل کا معاملہ
خیبرپختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے لیے صوبائی ٹیکس آمدن کا تخمینہ 115.9 ارب روپے رکھا ہے۔ ایسے میں عوامی ٹیکسوں کے استعمال، حکومتی اخراجات اور سیاسی سرگرمیوں پر اٹھنے والے سوالات کا جواب شفاف مالی تفصیلات کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔
یہ الزام سامنے آتا رہا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں، تاہم ایسے الزامات کی حتمی تصدیق کے لیے اخراجات کی سرکاری تفصیلات، ٹریول ریکارڈ، سیکیورٹی اخراجات اور متعلقہ محکموں کے مالی ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہیں۔
عوامی سطح پر بنیادی سوال یہی ہے کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح عوام کو امن، صحت، تعلیم، روزگار، بجلی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے یا سیاسی سرگرمیوں کو وسعت دینا؟
اگر سیاسی دوروں کے اخراجات پارٹی وسائل سے کیے جا رہے ہیں تو اس کی وضاحت سامنے آنی چاہیے، اور اگر کسی مرحلے پر سرکاری فنڈز استعمال ہوئے ہیں تو اس کا مکمل حساب عوام کے سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔





