بنوں: رکن خیبر پختونخوا اسمبلی فرازنہ شیرین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ تیرہ سالوں میں خیبر پختونخوا کو کچھ نہیں دیا، صوبے کے ہسپتالوں میں اسٹاف اور سہولیات کی کمی جبکہ تعلیمی شعبے میں سکولوں کی کمی سمیت بنیادی سہولیات کے فقدان کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔
بنوں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرازنہ شیرین نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، صوبائی حکومت کو پورے صوبے بالخصوص جنوبی اضلاع پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پشاور کو ماڈل ضلع بنانے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم پشاور تاحال ماڈل ضلع نہیں بن سکا، جبکہ جنوبی اضلاع کی صورتحال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ پشاور سمیت پورے خیبر پختونخوا کو مسائل کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کو لانگ مارچ کی سیاست کے بجائے صوبے کے مسائل کے حل اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: باجوڑ کے مسائل نظرانداز، پی ٹی آئی کے ایم پی اے اجمل خان پر کراچی میں سیاسی مہم چلانے کی تنقید
فرازنہ شیرین نے الزام عائد کیا کہ لانگ مارچ کے اخراجات بھی مبینہ طور پر کرپشن کے ذریعے پورے کیے جائیں گے، کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں۔
انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے صوبے میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔





