دنیا بھر میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افغان باشندوں کے گرد گھیرا تنگ

Pakistan SCO Summit 2026

دنیا کے مختلف ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے، جبکہ سنگین جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث بعض افغان باشندے میزبان ممالک کے لیے سیکیورٹی چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق ترکیہ میں رواں سال جنوری سے اگست کے دوران تقریباً 95 ہزار غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لیا گیا، جن میں سب سے بڑی تعداد افغان شہریوں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران 25 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا۔

ترک حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے افغان باشندوں کے پاس ترکیہ میں قیام کے لیے قانونی رہائشی دستاویزات موجود نہیں تھیں، جس کے باعث انہیں حراست میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

افغان میڈیا کے مطابق 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 13 ہزار سے زائد افغان شہریوں کو ترکیہ سے ملک بدر بھی کیا جا چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی ابتر معاشی صورتحال اور روزگار کے محدود مواقع کے باعث ہزاروں افغان شہری غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں۔ تاہم غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بعض افراد کی جرائم یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں مبینہ شمولیت میزبان ممالک کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: این ڈی یو میں افغان سفیر کی اوچھی حرکت: ثابت ہو گیا افغان طالبان ناقابلِ اعتماد اور دغاباز گروہ ہیں،ماہرین

ماہرین کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے میزبان ممالک کی جانب سے نگرانی، گرفتاری اور ملک بدری کی کارروائیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top