کیا منفی سوچ کا عادی ہونا آپ کی غلطی ہے؟ ضروری نہیں، اگر آپ غور کریں تو روزمرہ کے بہت سے کام ہم اپنے لاشعور کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔
یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنی سوچ اور چیزوں کو دیکھنے کے انداز کو تبدیل کریں تاکہ آپ اپنی زندگی میں مطلوبہ جذباتی کیفیت تک مسلسل پہنچ سکیں۔
منفی سوچ کی عادت کا مخالف محض مثبت سوچ نہیں، بلکہ حقیقت پسندانہ سوچ کے ساتھ پُرامید اندازِ فکر اپنانا ہے۔
میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ دنیا میں بہت سے لوگ صرف مثبت سوچنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ خود کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سب کچھ مثبت ہے، لیکن ان کے بنیادی عقائد انہیں بتاتے رہتے ہیں کہ وہ خود سے سچ نہیں بول رہے۔
جب وہ زبردستی مثبت سوچنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں اندر سے بے چینی یا ناگواری محسوس ہوتی ہے، اور وہ اکثر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے۔
اصل بات تجربے کی ہے۔ اپنے ماضی پر نظر ڈالیں اور ان حقائق کو پہچانیں جو آپ کو حالات کو ایک نئے اور بہتر انداز سے دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
آپ کے پاس تجربہ موجود ہے، لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ تمام حقائق کا جائزہ لینے سے پہلے ہی نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں۔
یہ صورتحال صحت سے متعلق بے چینی، عمومی اضطراب، ایگورافوبیا اور دیگر ذہنی مسائل کا سامنا کرنے والے افراد میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، اندرونی نقاد انسان سے کہتا ہے کہ تبدیلی بہت خوفناک اور تکلیف دہ ہے۔
یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ آپ نے پہلے کبھی حقیقت پسندانہ اور پُرامید اندازِ فکر حاصل نہیں کیا، تو اب کیسے کر سکتے ہیں؟
لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ ایسا کر چکے ہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ آپ اسے پہچان نہیں پا رہے، کیونکہ اس وقت آپ کے ادراکی فلٹرز آپ کو چیزوں کو اسی انداز سے دیکھنے نہیں دے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: شفیع جان نے سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کا اضافی قلمدان سنبھال لیا
آپ کے لاشعور کے لیے خوف اور خوشی کے درمیان ہمیشہ ایک کشمکش جاری رہتی ہے، لاشعور دونوں چیزیں آپ کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن اگر اسے دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ آپ کو خوش رکھنے کے بجائے آپ کی حفاظت کو ترجیح دے گا۔
لہٰذا اگر آپ اس وقت منفی سوچ کے عادی ہیں تو سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ ایک طرح کا حفاظتی نظام بھی ہو سکتا ہے، بہت سے لوگ اس کے نتیجے میں منفی سوچ کے ایک مسلسل چکر میں پھنس جاتے ہیں۔





