وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال کے کارڈیک پرائیویٹ رومز کی حالت زار کا جائزہ لیتے ہوئے ناقص انتظامات اور عملے کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
دورے کے دوران مصطفیٰ کمال نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ جو ملازم کام نہیں کر رہا، اسے فوری طور پر فارغ کیا جائے، خواہ وہ کسی کا بھی آدمی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کام نہیں کر رہا تو روزانہ 10 افراد کو بھی نکال دیں۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اسپتال کی مینٹیننس روزانہ کی بنیاد پر دیکھنا ہوگی، یہ نہیں ہوسکتا کہ انتظامی امور پر توجہ نہ دی جائے۔ انہوں نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ اسپتال کو سمجھنے کے لیے 6 ماہ کا وقت نہیں ملے گا، فوری طور پر کام کرنا ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے اسپتال کی عمارت کی خستہ حال دیوار کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دیوار کی حالت خراب ہے اور اسے صرف پینٹ کیا جا رہا ہے، کسی دن دیوار گر جائے گی اور پھر سب یہاں آئیں گے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ آج تک ان کے پاس ایسا ایک صفحہ بھی نہیں آیا جس میں کسی ملازم کی ناقص کارکردگی کی نشاندہی کی گئی ہو۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ناقص کارکردگی کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے اور کام نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرصحت مصطفیٰ کمال اور سیکریٹری صحت ہفتے میں ایک دن پمز اسپتال میں بیٹھ کرنگرانی کریں گے
دورانِ بریفنگ پمز انتظامیہ کی جانب سے انتظامی اختیارات کے ایک شخص کے پاس مرکوز ہونے کی شکایت بھی سامنے آئی۔ حکام نے بتایا کہ انتظامی طاقت ایک شخص کے پاس ہے۔
مصطفیٰ کمال نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تحریری طور پر بتایا جائے کہ اختیارات کس طرح تقسیم ہونے چاہئیں اور ایک صفحے پر انتظامی ماڈل تجویز کیا جائے۔





